خاوند کے لاپتہ ہونے پر 2 سال بعد فسخ نکاح کی اجازت دینے کی سفارش
فوٹو : فائل
اسلام آباد : اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے خاوند کے لاپتہ ہونے پر 2 سال بعد فسخ نکاح کی اجازت دینے کی سفارش کر دی گئی ہے۔
اس حوالے سے نجی ٹی وی اے آر وائی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے 244 ویں اجلاس میں کہا گیا کہ نفقہ نہ ملنے پر ایک سال بعد فسخ نکاح ممکن ہو گا جب کہ خاوند قید ہو تو 3 سال بعد عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
ذہنی یا جسمانی بیماری کی صورت میں ایک سال بعد فسخ نکاح ممکن ہے، بچپن کےنکاح میں سوءِ اختیار ثابت ہو تو فسخ کیا جا سکتا ہے، رحم کی پیوندکاری مشروط اجازت کے ساتھ ممکن ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے دہشتگردی کی مذمت کرت ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف پوری قوم افواج پاکستان کےساتھ ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے قابل مذمت ہیں۔
Comments are closed.