حکومت جی 12 اور ایف 12 کے رہائشیوں کو متبادل رہائش فراہم کرے

فوٹو : فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے سیکٹر جی-12 اور ایف-12 کی تعمیر کے اعلان کے بعد علاقے میں آباد ہزاروں رہائشیوں اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جی 12 اور ایف 12 کے رہائشیوں کو متبادل رہائش فراہم کرے۔

ان رہائشیوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی مالکان سے اسٹامپ پیپر کے ذریعے زمینیں خرید کر برسوں کی محنت سے اپنے گھر تعمیر کیے ہیں،اور علاقے میں کاروبار کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں ۔ لیکن اب حکومت انہیں زبردستی بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

متاثرہ افراد کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے بلکہ انہیں شدید مالی اور ذہنی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت انہیں متبادل رہائش فراہم کرے تاکہ وہ بے گھر ہونے سے بچ سکیں۔

اس حوالے سے ایکشن کمیٹی برائے حقوق سٹامپ مالکان کے کوآرڈینیٹر حجاب خان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹامپ پیپر پر زمین خریدنے والے مالکان کسی بھی ظالمانہ فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے زبردستی بے دخلی کی کوشش کی تو متاثرین بھرپور احتجاج کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی حکومت اور میڈیا سے حقائق چھپا رہی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ علاقہ قبضہ گروپ سے خالی کرایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ان کے مطابق علاقے میں کسی نے بھی قبضہ نہیں کیا بلکہ ہزاروں افراد نے اسٹامپ پیپر پر جدی پشتی مالکان سے زمینیں خرید کر آباد کاری کی ہے، جس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق متعلقہ ادارہ دفتر میں بیٹھ کر لے آؤٹ پلان بنانے کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ زور زبردستی اور ڈنڈے کا استعمال ایک غیر منصفانہ عمل ہے، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے.

متاثرین نے حکومت اور اعلی عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مسئلے کا حل نکالے اور انہیں متبادل جگہ فراہم کر کے انصاف یقینی بنائے۔

Comments are closed.