جاپان اور چین سے 660 سی سی کاروں کے امکانات، قیمتیں اور قانونی تفصیلات

660 سی سی کار

فوٹو : سوشل میڈیا 

اسلام آباد : پاکستان میں سستی گاڑیوں کی درآمد: جاپان اور چین سے 660 سی سی کاروں کے امکانات، قیمتیں اور قانونی تفصیلات (2026)
پاکستان میں گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں، محدود مقامی پیداوار اور نئی کاروں کی طویل ڈیلیوری مدت کے باعث درآمد شدہ گاڑیاں عوام کے لیے ایک پرکشش متبادل بنتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر کم انجن گنجائش والی 660 سی سی گاڑیاں شہری استعمال، کم ایندھن خرچ اور نسبتاً کم قیمت کے باعث تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
سال 2026 میں حکومت پاکستان کی امپورٹ پالیسی کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ اور نئی گاڑیوں کی درآمد ممکن ہے، تاہم اس عمل کے لیے سخت قانونی شرائط اور ڈیوٹی اسٹرکچر نافذ ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم جاپان اور چین سے سستی گاڑیوں کی درآمد، قیمتوں، قانونی طریقہ کار، گفٹ سکیم اور سالانہ درآمدی اعدادوشمار کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کس ملک سے سستی گاڑیاں درآمد کی جا سکتی ہیں؟

پاکستان میں سستی گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے جاپان سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے، جہاں سے مجموعی درآمدات کا تقریباً 99 فیصد حصہ آتا ہے۔ جاپان میں گاڑیوں کی بروقت تبدیلی، سخت ماحولیاتی قوانین اور بہترین مینٹیننس کی وجہ سے استعمال شدہ کاریں کم قیمت اور اچھی حالت میں دستیاب ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارات، جرمنی اور تھائی لینڈ سے بھی گاڑیوں کی درآمد ممکن ہے، تاہم ان ممالک سے درآمد جاپان کے مقابلے میں کم ہے۔
چین سے نئی گاڑیاں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں

چھوٹی 660 سی سی ،درآمد شدہ کاریں

یورپی ممالک سے شپنگ لاگت زیادہ ہونے کے باعث مجموعی لاگت بڑھ جاتی ہے
2026 کی امپورٹ پالیسی کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، جس میں مستقبل میں مرحلہ وار کمی متوقع ہے، جس سے جاپان سے درآمد سب سے زیادہ کفایتی آپشن بن جاتی ہے۔

جاپان یا چین سے گاڑیاں کس قیمت پر اور کس طریقے سے درآمد کی جا سکتی ہیں؟

جاپان سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی گائیڈ لائنز کے مطابق کی جاتی ہے۔ اوورسیز پاکستانی درج ذیل اسکیموں کے تحت گاڑیاں درآمد کر سکتے ہیں:
Transfer of Residence Scheme
Gift Scheme
انجن گنجائش کے لحاظ سے ڈیوٹی اور ٹیکسز کا تعین کیا جاتا ہے۔
800 سی سی تک گاڑی پر تقریباً US$4,800 ڈیوٹی و ٹیکس
شپنگ لاگت: US$1,000 سے US$2,000
جاپان میں 660 سی سی استعمال شدہ گاڑی کی FOB قیمت US$2,000 سے US$5,000 تک ہوتی ہے، جبکہ پاکستان پہنچنے پر مجموعی لاگت PKR 1.5 ملین سے 3 ملین روپے تک بن سکتی ہے۔
دوسری جانب چین سے نئی گاڑیوں کی درآمد ممکن ہے، تاہم 2026 کی پالیسی کے مطابق استعمال شدہ گاڑی کے لیے 180 دن کی رجسٹریشن شرط لازم ہے۔
بنیادی ماڈلز کی MSRP US$10,000 سے شروع
مجموعی ڈیوٹی و ٹیکسز (70٪ کسٹمز + 40٪ ریگولیٹری ڈیوٹی)
پاکستان میں اندازاً قیمت: PKR 2 سے 4 ملین
دونوں ممالک سے درآمد کے لیے Right Hand Drive ہونا لازمی شرط ہے۔
660 سی سی گاڑیاں: نئی اور استعمال شدہ ماڈلز کی اوسط قیمت
پاکستان میں 660 سی سی گاڑیاں جیسے Suzuki Alto, Daihatsu Mira, Honda N-One شہری صارفین میں بے حد مقبول ہیں۔

مختلف ماڈلز کی چھوٹی اور بڑی کاریں

استعمال شدہ 660 سی سی گاڑیاں: PKR 1 سے 2.5 ملین
نئی درآمد شدہ 660 سی سی گاڑیاں: PKR 2.5 سے 4 ملین
قانونی درآمد کے لیے:
گاڑی 3 سال سے زیادہ پرانی نہ ہو
800 سی سی تک گاڑی پر US$4,800 ڈیوٹی
نئی گاڑی پر ڈیوٹی MSRP کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے
لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی مارکیٹس میں استعمال شدہ 660 سی سی گاڑیاں PKR 1.8 سے 3.6 ملین تک دستیاب ہیں۔

حکومت پاکستان کی کار گفٹ سکیم: اہلیت، ڈیوٹی اور شرائط (2026)

حکومت پاکستان کی Gift Scheme سال 2026 میں تاحال فعال ہے، جبکہ Personal Baggage Scheme کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اہم شرائط:
اوورسیز پاکستانی اپنے قریبی فیملی ممبر کو 3 سال پرانی کار گفٹ کر سکتے ہیں
انجن گنجائش کے مطابق ڈیوٹی (660 سی سی پر تقریباً US$4,800)
کم از کم 3 سال بیرونِ ملک رہائش
گاڑی ایک سال تک فروخت نہیں کی جا سکتی
درج ذیل افراد نااہل قرار دیے گئے ہیں:
طلبہ
نان ارننگ ممبرز
وہ افراد جو گزشتہ 2 سال میں گاڑی درآمد کر چکے ہوں

پاکستان میں سالانہ کتنی گاڑیاں اور کہاں سے درآمد ہوتی ہیں؟

دسمبر 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران پاکستان میں 45,758 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں، جن میں سے 99 فیصد جاپان سے تھیں۔
دیگر ممالک سے درآمد:
تھائی لینڈ: 130
امریکہ: 55
جمیکا: 49
ماہرین کے مطابق 2025-26 میں گاڑیوں کی درآمد 40,000 سے 50,000 یونٹس تک رہنے کا امکان ہے، جو مجموعی آٹو مارکیٹ کا 20 سے 25 فیصد بنتا ہے۔
FY26 کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی آٹو سیلز میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تقریباً 124,000 یونٹس تک پہنچ گئیں

Comments are closed.