بچوں کی فحش ویڈیوزپر سزا سمیت سینیٹ میں متعدد بلز منظور،پیکا میں مزید ترامیم
فوٹو : فائل
اسلام آباد: بچوں کی فحش ویڈیوزپر سزا سمیت سینیٹ میں متعدد بلز منظور،پیکا میں مزید ترامیم کی گئی ہیں ،سینیٹ آف پاکستان نے اہم قانون سازی کرتے ہوئے انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پیکا) میں ترمیم سمیت متعدد اہم بلز منظور کرلیے ہیں، جن میں سائبر کرائم، ریپ متاثرین کے طبی حقوق، بچوں کے تحفظ اور خاندانی قوانین سے متعلق ترامیم شامل ہیں۔ ایوان بالا میں منظور ہونے والی یہ قانون سازی انسانی حقوق، ڈیجیٹل ریگولیشن اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق آج کے اجلاس میں مجموعی طور پر پانچ اہم بلز منظور کیے گئے، جن کا مقصد قانونی خلا کو پُر کرنا اور سماجی و اخلاقی جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے۔
پیکا ایکٹ میں بڑی ترامیم، سوشل میڈیا کمپنیوں سے قانونی تعاون کی شرط
سینیٹ نے انسدادِ الیکٹرانک جرائم (ترمیمی) بل منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان ممالک کے ساتھ Mutual Legal Assistance Treaty (MLAT) کرے جن کی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پاکستان میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سائبر کرائمز، فیک نیوز، آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق MLAT کے تحت پاکستان کو فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز سے ڈیٹا تک رسائی اور تحقیقات میں تعاون حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ یہ قدم خاص طور پر قومی سلامتی، بچوں کے تحفظ اور آن لائن جرائم کی روک تھام کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سینیٹ نے بھی پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیدی
اسی ترمیمی بل میں بچوں کی فحش ویڈیوز (Child Pornography) سے متعلق سزاؤں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق ایسے جرائم میں ملوث افراد کو 7 سال کے بجائے 10 سال قید کی سزا دی جا سکے گی جبکہ جرمانہ 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ترمیم بچوں کے آن لائن استحصال کے خلاف سخت پیغام ہے۔
ریپ متاثرین کے لیے فوری طبی امداد لازمی، خلاف ورزی پر سزا
سینیٹ نے کرمنل قوانین میں ترمیمی بل بھی منظور کیا جس کے تحت ریپ یا زیادتی کا شکار لڑکے یا لڑکی کو فوری میڈیکل سہولت فراہم نہ کرنے پر متعلقہ ذمہ داران کے خلاف ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔
نئے قانون کے مطابق اگر کوئی نجی یا سرکاری اسپتال ریپ متاثرہ فرد کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ مزید برآں نجی اسپتال 24 گھنٹوں کے اندر متاثرہ فرد کو سرکاری اسپتال منتقل کرنے کا پابند ہوگا تاکہ قانونی تقاضے اور میڈیکل لیگل رپورٹ (MLR) بروقت مکمل ہو سکے۔
ان ترامیم کا مقصد ماضی میں سامنے آنے والے ان واقعات کی روک تھام ہے جہاں متاثرین کو طبی امداد میں تاخیر یا انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا ہے۔
فیملی کورٹ اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قانون سازی
ایوان بالا نے سینیٹر ثمینہ زہری کا فیملی کورٹ ترمیمی بل بھی منظور کیا، جس کا مقصد خاندانی مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور خواتین و بچوں کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت فیملی کورٹس کے دائرہ اختیار اور طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو سکے۔
علاوہ ازیں سینیٹر شیری رحمان کا اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل بھی منظور کیا گیا۔ یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کی قومی پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق اس قانون سے دارالحکومت میں پلاسٹک ویسٹ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
آج منظور ہونے والے بلز کی تعداد اور اہمیت
پارلیمانی کارروائی کے مطابق آج سینیٹ نے مجموعی طور پر پانچ بلز منظور کیے:
-
انسداد الیکٹرانک جرائم (پیکا) ترمیمی بل
-
کرمنل لا ترمیمی بل (ریپ متاثرین کے طبی حقوق)
-
بچوں کی فحش ویڈیوز سے متعلق سزا میں اضافہ
-
فیملی کورٹ ترمیمی بل
-
اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل
قانونی ماہرین کے مطابق یہ قانون سازی ڈیجیٹل سیکیورٹی، انسانی حقوق، خواتین و بچوں کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Comments are closed.