بنگلادیش انتخابات،خالدہ ضیاء کی بی این پی209 نشستیں لےکر کامیاب

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد : بنگلادیش انتخابات،خالدہ ضیاء کی بی این پی209 نشستیں لےکر کامیاب ،دوتہائی اکثریت حاصل کر لی، جبکہ جماعت اسلامی کی زیر قیادت اتحاد 70 نشستوں پر کامیاب ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی نے شکست تسلیم کر لی ہے.

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی اور اتحادیوں کو 70 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے 300 رکنی پارلیمنٹ میں 209 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

یہ انتخابات 2024 میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے اس انتخاب کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

بی این پی کے سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار طارق رحمان نے اپنی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے کامیابی کے بعد کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی بہتری کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے

دوسری طرف بی این پی کا کہنا ہے کہ وہ اتحادیوں کیساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے انتخابات کو ڈرامہ قرار دیا ہے، اُن کی جماعت پابندی کے باعث انتخابی عمل کا حصہ نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹ اور پارٹی ذرائع کے مطابق بی این پی کے سربراہ طارق الرحمان ڈھاکا اور بوگرا کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان بھی ڈھاکا 15 سے اپنی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

طلبہ تنظیم کی نمائندہ سیاسی جماعت این سی پی کے سربراہ ناہید اسلام کو بھی ڈھاکا II سے برتری حاصل تھی، جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ وہ منصفانہ انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں ۔

بنگلہ دیش کی 31 سالہ تاریخ میں پہلی بار الیکشن میں تشدد سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تاہم بعض پولنگ اسٹیشنز پر تلخ کلامی ہوئی ہے.

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنانے کی اہل ہوتی ہے ۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں.

انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے جس میں اب تک کسی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے ہیں،اب تک کے غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں سابق وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔

والدہ کے حال ہی میں انتقال کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔

Comments are closed.