بسنت کے رنگ سفارت کاری تک جا پہنچے،امریکی سفیر سمیت غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت

بسنت کے رنگ سفارت کاری تک جا پہنچے،امریکی سفیر سمیت غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت

فوٹو : اسکرین گریب

لاہور:بسنت کے رنگ سفارت کاری تک جا پہنچے،امریکی سفیر سمیت غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت ، 25 سال بعد لاہور میں بسنت کی بحالی نے نہ صرف شہریوں بلکہ عالمی سفارتی حلقوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ جشنِ بسنت کے موقع پر امریکی سفیر سمیت متعدد غیر ملکی سفارتکاروں نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے تاریخی و ثقافتی رنگوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوئے۔

اس موقع پر لاہور قلندرز نے بھی خصوصی کردار ادا کرتے ہوئے غیر ملکی مہمانوں کو بسنت کی روایت، ثقافت اور خوشیوں سے متعارف کرایا۔

https://

لاہور قلندرز کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا کہ
“Lahore Qalandars introducing the US Ambassador to the beautiful colors Lahore has to offer on this Jashan e Basant”
جس نے بسنت کو عالمی سطح پر ایک مثبت شناخت فراہم کی۔

کن کن سفارتکاروں نے بسنت میں شرکت کی؟

ذرائع کے مطابق لاہور میں ہونے والی بسنت تقریبات میں امریکی سفیر، برطانوی ہائی کمشنر، یورپی یونین کے نمائندے، چین، ترکی، خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک کے سفارتکار شریک ہوئے۔ غیر ملکی مہمانوں نے شہر کے مختلف مقامات پر بسنت کی تقریبات کا مشاہدہ کیا اور مقامی ثقافت میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

سفارتی مہمانوں نے والڈ سٹی لاہور، اندرون شہر کی چھتوں، ثقافتی مراکز اور مخصوص بسنت پوائنٹس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پتنگ بازی، لوک موسیقی، پنجابی کھانوں اور روایتی لباس میں ملبوس شہریوں کے ساتھ وقت گزارا۔

پنجاب حکومت کی میزبانی اور انتظامات

پنجاب حکومت کی جانب سے غیر ملکی سفارتکاروں کا سرکاری اور ثقافتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے خصوصی سیکیورٹی انتظامات، گائیڈڈ ٹورز اور ثقافتی بریفنگز کا اہتمام کیا تاکہ مہمان لاہور کی تہذیب اور بسنت کی روح کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ ثقافت، سیاحت اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر بسنت تقریبات کو محفوظ اور منظم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سفارتی مہمانوں کو بسنت کے حوالے سے جاری کردہ حفاظتی ایس او پیز سے بھی آگاہ کیا گیا، جنہیں عالمی مہمانوں نے سراہا۔

https://

 بسنت کے حوالے سےغیر ملکی سفارتکاروں کے تاثرات

غیر ملکی سفارتکاروں نے بسنت کو پاکستان کا نرم، خوش رنگ اور پُرامن چہرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت جیسی ثقافتی تقریبات پاکستان کے بارے میں دنیا میں پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق امریکی سفیر نے لاہور کی میزبانی، عوامی جوش و خروش اور ثقافتی تنوع کو بے حد متاثر کن قرار دیا، جبکہ برطانوی ہائی کمشنر نے بسنت کو ثقافتی سفارت کاری کی بہترین مثال کہا۔

پاکستان کا مثبت تشخص اور عالمی پیغام

لاہور قلندرز نے بسنت کے موقع پر نہ صرف کھیل بلکہ ثقافت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ٹیم کی جانب سے غیر ملکی مہمانوں کو بسنت کی تاریخ، پتنگ بازی کی روایت اور لاہور کی شناخت سے روشناس کرایا گیا، جسے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ملی۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں کی بسنت میں شرکت نے پاکستان کے مثبت، پُرامن اور ثقافتی تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ بسنت نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف کھیلوں بلکہ تہذیب، ثقافت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کا بھی علمبردار ہے۔

بسنت کی کامیاب بحالی اور عالمی شرکت نے ثابت کر دیا کہ اگر نظم و ضبط اور حکمت عملی کے ساتھ ثقافتی تہوار منائے جائیں تو وہ ملک کی سافٹ امیج کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

Comments are closed.