ایران اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملے،تیل کی قیمت بڑھ گئیں

ایران اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملے،تیل کی قیمت بڑھ گئیں

فوٹو : فائل

خلیج فارس: ایران اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملے،تیل کی قیمت بڑھ گئیں ،عالمی منڈیوں میں ہلچل ، قیمتوں میں تیزی کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت جمعرات کو 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ یورپی قدرتی گیس کے فیوچر ریٹس میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اطلاعات کے مطابق قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی، جو ایل این جی برآمدات کا بڑا مرکز ہے، پر میزائل حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ اسی طرح کویت میں دو آئل ریفائنریز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی سمریف ریفائنری پر حملے اور ینبع بندرگاہ کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔

ادھر فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون نے برسلز میں گفتگو کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی پر زور دیا اور خبردار کیا کہ توانائی انفراسٹرکچر پر حملے عالمی معیشت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

علاقے کے 12 ممالک، جن میں ترکی، اردن اور لبنان شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے شہری علاقوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے سے امریکہ کو الگ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قطر کی ایل این جی تنصیبات پر مزید حملے ہوئے تو امریکہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس پر حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں متعدد توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی نافذ ہو چکی ہے اور تصادم کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Comments are closed.