امریکہ سے بلا چون و چرا اتفاق کرنا برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں، برطانوی وزیرخارجہ
فوٹو : فائل
لندن : برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ ہر معاملے پر امریکہ سے بلا چون و چرا اتفاق کرنا برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں، برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تاہم دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مضبوط ہیں اور متعدد معاملات پر تعاون جاری رہے گا۔
اتوار کو بی بی سی کے پروگرام میں نامہ نگار لورا کیونسبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات اس وقت کسی مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں، تو یویٹ کوپر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری موجود ہے اور دفاع، تجارت، سکیورٹی اور عالمی سفارت کاری سمیت کئی شعبوں میں مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ امریکہ کا قریبی اتحادی ضرور ہے، مگر ہر معاملے میں اندھا دھند حمایت کرنا درست پالیسی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو عالمی معاملات میں اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔
یویٹ کوپر نے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ کو بعض عالمی تنازعات میں ابتدا ہی سے امریکہ کے مؤقف کی مکمل حمایت کرنی چاہیے تھی۔ اس پر کوپر کا کہنا تھا کہ سیاست میں مختلف آراء ہونا فطری بات ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ماضی کے تجربات سے سیکھ کر مستقبل کی بہتر پالیسی بنائی جائے۔
انہوں نے خاص طور پر عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے دوران بعض فیصلوں پر بعد میں شدید تنقید ہوئی اور یہ ضروری ہے کہ ایسی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے تاکہ آئندہ عالمی تنازعات میں زیادہ محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
برطانوی سیکرٹری خارجہ نے مزید کہا کہ برطانیہ عالمی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو اہمیت دیتا ہے اور مستقبل میں بھی عالمی مسائل کے حل کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، تاہم قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔
Comments are closed.