اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس کیلئے  زبردستی مارکیٹیں بند کرائی گئیں، اسکرینز کرائے پر لیں

فوٹو : سوشل میڈیا

پشاور: عمران خان اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس کیلئے  زبردستی مارکیٹیں بند کرائی گئیں، اسکرینز کرائے پر لیں، پشاور کے اس کرکٹ اسٹیڈیم کی پی ایس ایل 11 کے میچز کیلئے تزئین و آرائش کی گئی تھی تاہم کرکٹ میچز تو نہ ہو سکے سیاسی میچ منعقد کر لیا گیا.

اس حوالے سے سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے ایک خصوصی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے صوبائی حکومت کو اسٹیڈیم کی سکرینز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس وجہ سے یہ اسکرینز کرائے پر لی گئیں.

صوبائی اسمبلی اجلاس کی وجہ سے قریب موجود سبزی منڈی اور دیگر دکانیں بند کروا دی گئی تھیں، جس پر لوگوں نے غصے کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی کی عمارت موجود ہے تو پھر ان کا کاروبار کیوں بند کیا گیا ہے.

سوشل میڈیا پر اس اجلاس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو خرچ کیا گیا، رپورٹ میں صوبائی اسمبلی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس کے لیے کوئی زیادہ رقم خرچ نہیں کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’ساؤنڈ سسٹم اسمبلی سے لایا گیا، کرسیاں اور باقی سامان بھی اسمبلی سے لایا گیا، صرف پی سی بی کی جانب سے سٹیڈیم میں نصب سکرینز کو استعمال کرنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے سکرینز نجی طور پر لائی گئی تھیں۔‘

صوبائی اسمبلی کا کرکٹ گراؤنڈ میں یہ اجلاس دوپہر تین بجے شروع ہونا تھا اور اس کے لیے کالجز اور یونیورسٹیز کے کچھ طلبا وہ طالبات بھی پہنچے تھے تاہم اجلاس اتنی تاخیر سے شروع ہوا کہ بیشتر لوگ اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی سٹیڈیم سے چلے گئے تھے۔

اس پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ ’یہ اجلاس بہت کم وقت میں شیڈول دیا گیا اور اس کے لیے کس بھی رکن نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر لوگوں کو شریک ہونے کی اپیل نہیں دی تھی اس لیے شاید لوگ کم آئے ہیں۔‘

انھوں نے آئندہ بھی اسٹیڈیم میں اجلاس منعقد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اس کے لیے بہتر تیاری کی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہو سکیں۔‘

اسمبلی اجلاس کو دیکھنے کے لیے آنے والے کچھ طلبا اور طالبات کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی کاوش ہے اور اس سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق بی ایس کی ایک طالبہ سلوی نواز نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ یہ اجلاس دیکھنے آئی ہیں اور یہ لمحہ ان کے لیے یادگار ہے کیونکہ اسمبلی کی عمارت میں شاید انھیں یہ سب کچھ دیکھنے کا موقع نہ مل سکتا۔

یہ اجلاس شام دیر تک جاری رہا اور جب وزیر اعلی سہیل آفریدی تقریر کر رہے تھے تو شدید آندھی چلنے لگی اور وزیر اعلی کو تقریر مختصر کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ ساؤنڈ سسٹم میں بھی بار بار مختلف مسائل آتے رہے۔

اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس میں شرکت کی۔

Comments are closed.