اسلام آباد میں 50 ہزار درختوں کی پر منتخب نمائندے خاموش، جماعت اسلامی بول پڑی
فوٹو : فائل
اسلام آباد: اسلام آباد میں 50 ہزار درختوں کی پر منتخب نمائندے خاموش، جماعت اسلامی بول پڑی، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی معاملہ اُٹھا دیا.
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ
ایک مرتبہ پھر سازش کی جا رہی ہے اور اب تک چار مرتبہ وفاق میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے، پھر نیا آرڈیننس لا کر انتخابات ملتوی کر دیے جاتے ہیں، جو جمہوری عمل کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے حکومت اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا نہیں کر رہی، اس مرتبہ بھی صدارتی آرڈیننس کو بہانہ بنایا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انتخابات ملتوی ہونے کے بعد اسلام آباد کا کوئی والی وارث نہیں رہا اور شہر کا نظام بیوروکریسی اور ایم ایس ایز کے رحم و کرم پر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی بیوروکریسی خاندانی اجارہ داری بن چکی ہے۔
ماحولیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلام آباد میں اس وقت چالیس سے پچاس ہزار درخت کاٹ دیے گئے ہیں، جو معاشرے اور ماحولیات پر بہت بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کے ساتھ کیے گئے اس ظلم کی جماعت اسلامی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنا محض نورا کشتی ہے، جبکہ درختوں کے بدلے نئے درخت لگانے کے دعوے عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہیں۔
Comments are closed.