اسلامی ممالک کا امریکی اڈے ختم کرنے کی بجائے ایران سے ہمسایوں پہ حملے روکنے مطالبہ
فوٹو : اردو نیوز
ریاض : اسلامی ممالک کا امریکی اڈے ختم کرنے کی بجائے ایران سے ہمسایوں پہ حملے روکنے مطالبہ سامنے آیا ہے، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سعودی دارالحکومت ریاض میں اجلاس ہوا جہاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کئے اعلامیہ میں خطے پر ایرانی حملوں کی پُر زور مذمت کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ایران خلیجی ممالک کے سول انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے.
ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات،سفارتخانوں اورعوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ حملے کسی صورت جائز نہیں، اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ایران خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب ایران حملوں کے بعد فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خطاب کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے، ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھیں گے۔
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی، دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک پر حملوں کے خاتمے پر زور دے گا۔
اجلاس میں آذربائجان، بحرین، شام، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات نے شرکت کی، کویت، اردن، اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
واضح رہے دوسری طرف ایران خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو ان ممالک میں ہیں اور ایران کیخلاف مبینہ طور پر استعمال ہوتے ہیں لیکن اعلامیہ میں امریکی اڈوں سے حملے ہونے یا ختم کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا.
Comments are closed.