گریڈ 17 سے 22 تک کے سول افسران ہر 3 سال بعد اثاثے جمع کرانے کے پابند ہوں گے
فوٹو : فائل
اسلام آباد: گریڈ 17 سے 22 تک کے سول افسران ہر 3 سال بعد اثاثے جمع کرانے کے پابند ہوں گے، اسٹیبلشمنٹ کا روڈ میپ سامنے آگیا ہے تاہم اس میں عسکری افسران کے اثاثوں کا ذکر شامل نہیں ہے.
اس حوالے سے نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دی ہے جس میں یہ تفصیلات شامل ہیں.
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے جائز ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں، خصوصاً اگر وہ مسلسل تین برس تک اثاثہ جات کا گوشوارہ جمع کراتے رہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کا نظام سرکاری افسران کی دولت اور اثاثوں میں غیر معمولی اضافے پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔
قائمہ کمیٹی کو وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، نبیل اعوان نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب کر دیا جائے گا.
ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم ایف بی آر کے مشورے سے تیار کیا جا رہا ہے، مجوزہ نظام کے تحت سرکاری افسران کو اپنے خاندان کے اثاثوں اور بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام، بشمول چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو، کو اختیار ہوگا کہ وہ AI کی مدد سے ہونے والی جانچ پڑتال کے دوران اثاثوں میں مشکوک یا غیر معمولی اضافے کی صورت میں تحقیقات شروع کر سکیں.
Comments are closed.