چین کے تیارکردہ نئے پانچ سالہ خاکہ کے اجرا سے جدید شعبوں میں مواقعے پیدا ہوں گے

چین کے تیارکردہ نئے پانچ سالہ خاکہ کے اجرا سے جدید شعبوں میں مواقعے پیدا ہوں گے

فوٹو : شنہوا

بیجنگ: چین کے تیارکردہ نئے پانچ سالہ خاکہ کے اجرا سے جدید شعبوں میں مواقعے پیدا ہوں گے جس کے بعد ملک میں ٹیکنالوجی، جدید صنعتوں اور ہائی ٹیک شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں، جس کے باعث عالمی کمپنیوں کی توجہ تیزی سے چین کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔

15ویں پانچ سالہ منصوبے میں جدید مینوفیکچرنگ، جدید خدمات، ہائی ٹیک صنعتوں، توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جو چین کی “اعلیٰ معیار کے کھلے پن” کی پالیسی کا حصہ ہے۔

اسی تناظر میں امریکی دوا ساز کمپنی Eli Lilly نے چین میں اپنی سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے آئندہ دہائی میں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں جدید زبانی ادویات کی مقامی پیداوار بھی شامل ہوگی۔

کمپنی حکام کے مطابق مشرقی چین کے صوبہ جیانگ سو میں سوزو کی موجودہ سہولت کو وسعت دی جائے گی جبکہ بیجنگ میں نئی پیداواری صلاحیتیں قائم کی جائیں گی۔

بائیو فارما اور ہائی ٹیک سیکٹر میں تیزی

چین میں بائیو فارماسیوٹیکل سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں برطانوی کمپنی AstraZeneca نے 2030 تک 15 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح Pfizer اور Bayer بھی چین میں اپنی تحقیقی اور اختراعی سہولیات قائم کر چکی ہیں۔ بایر 2028 تک مشرقی چین میں ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کرے گی۔

ماہرین کے مطابق چین کا بائیو فارما سیکٹر اب “فالوور” سے “جدت کے مرکز” میں تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ ادویات کی برآمدات اور لائسنسنگ ڈیلز بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں بھی پیش رفت جاری ہے، جہاں جنوبی کوریا کی کمپنی STI نے گوانگزو میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ بیس قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ فرانسیسی ٹائر کمپنی Michelin نے شنگھائی میں اپنی پہلی “مستقبل کی فیکٹری” قائم کر دی ہے۔

سرمایہ کاری میں اضافہ اور معاشی تبدیلی

چین کی وزارت تجارت کے مطابق 2025 میں 70 ہزار سے زائد نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کمپنیوں کا قیام عمل میں آیا، جبکہ 2026 کے آغاز میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خاص طور پر ہائی ٹیک شعبوں میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تحقیق و ترقی اور ڈیزائن سروسز میں سرمایہ کاری میں غیر معمولی تیزی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود چین “صنعتی اپ گریڈنگ” اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ Ernst & Young اور KPMG کے ماہرین کے مطابق چین اب صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنی معیشت کا حصہ بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے نفاذ کے ساتھ چین عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن سکتا ہے، اور یہ پالیسی نہ صرف معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر چین کے کردار کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔

Comments are closed.