فائر وال بدستور آپریشنل ہے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ذرائع
فوٹو : فائل
اسلام آباد : فائر وال بدستور آپریشنل ہے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ذرائع کے مطابق ملک بھر میں فائر وال لگنے کے بعد ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز اور ڈیجیٹل ٹریفک روکی یا پہنچ کم کی گئی تھی وہ جوں کی توں برقرار ہے.
میڈیا رپورٹس ذرائع سے چلنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نگرانی اورکنٹرول کےلیےنصب کیا گیا فائر وال منصوبہ ناکام ہو گیا ہے تاہم اس کا کوئی ٹھوس حوالہ نہیں دیا گیا.
رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے قبل فائر وال کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیس ہے لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے والے بتا سکتے ہیں فائر وال کے ذریعے جو ڈیجیٹل ٹریفک کی ریچ کم کی گئی تھی وہ برقرار ہے.
ذرائع کے مطابق گوگل کے ایڈسینس میں جو اعدادوشمار سامنے آتے ہیں ان سے واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں شائع ہونے والی خبر جس کا ٹارگٹ ہی پاکستانی ناظرین یاقارئین ہیں وہ پاکستان برائے نام کہیں دیکھی جاتی ہے جب کہ بیرون ملک زیادہ دکھائی دی جاتی ہے.
اگر فائر وال بند ہوتی تو یہ ٹریفک پہلے کی طرح پاکستان میں بحال ہو چکی ہوتی مگر لگتا ہے ،ذرائع سے چلنے والی خبریں حقائق کے منافی ہیں اسی لیے کسی ادارے سے واضح تصدیق بھی سامنے نہیں آئی اور محض ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے.
واضح رہے یہ فائر وال 2024 میں سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کےمقصد سے نصب کی گئی تھی، جو حکومت مخالف سرگرمیاں تو نہ روک سکی الٹا آن لائن روزی روٹی کمانے والے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنی۔
وسائل رکھنے والے کاروباری افراد نے ڈیجیٹل سرگرمیوں کیلئے دیگر ممالک کا رخ کیا ، بلا تعطل والے انٹرنیشنل سرور پر شفٹ ہوئے تاہم پاکستان میں موجود لوگوں کو فائر وال نے اپنے شکنجہ میں کس دیا.
فائر وال سےمطلوبہ انٹرنیٹ کی رفتار بری طرح متاثر ہوئی اور بظاہر فور جی سہولت ہونے کے باوجود نیٹ رینگتا رہا، انٹرنیٹ سست روی کا شکار رہا، جس سے لاکھوں فری لانسرز اور ہزاروں کمپنیوں کی ڈیجیٹل سروسز متاثر ہوئیں.
نجی ٹی وی سما نیوز میں فائر وال بند ہون کی خبر دی گئی لیکن اسی خبر میں یہ بھی شامل ہے کہ فائر وال کی بندش پر وزارت آئی ٹی نے موقف دینے سے گریز کیا ہے.
Comments are closed.