چین کا بڑا مالیاتی فیصلہ: بینکوں کو امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری محدود کرنے کی ہدایت
فوٹو :فائل
اسلام آباد : چین کے مالیاتی ریگولیٹرز نے ملک کے بڑے مالیاتی اداروں کو امریکی ٹریژری بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری محدود کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ حد سے زیادہ انحصار (Concentration Risk) اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ شدید اتار چڑھاؤ کے خطرات بتائے گئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق اس معاملے سے براہِ راست واقف افراد نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ہدایت باضابطہ تحریری حکم کے بجائے زبانی طور پر چین کے بڑے بینکوں کو دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی صورت جغرافیائی سیاست یا امریکا پر عدم اعتماد نہیں، بلکہ صرف مالیاتی رسک کو متنوع بنانا ہے تاکہ بینکوں کو اچانک قیمتوں میں تبدیلی سے بچایا جا سکے۔
سرکاری سرمایہ کاری مستثنیٰ، بڑے بینکوں کو پوزیشن گھٹانے کا مشورہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن چینی بینکوں کی امریکی سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کا حجم زیادہ ہے، انہیں اپنی پوزیشن کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ہدایت چین کی سرکاری سطح پر امریکی ٹریژریز میں کی گئی سرمایہ کاری پر لاگو نہیں ہوتی۔
ذرائع نے نجی نوعیت کی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ رہنمائی زبانی طور پر ملک کے چند بڑے مالیاتی اداروں کو دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکام امریکی سرکاری قرضوں میں حد سے زیادہ سرمایہ کاری کو بینکوں کیلئے ایک ممکنہ خطرہ تصور کر رہے ہیں۔
یہ خدشات صرف چین تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک اور عالمی فنڈ مینیجرز میں بھی امریکی قرضوں کی محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) حیثیت اور ڈالر کی طویل المدتی کشش پر بحث جاری ہے۔ تاہم ذرائع نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس فیصلے کا تعلق کسی جغرافیائی سیاسی حکمت عملی یا امریکی کریڈٹ پر عدم اعتماد سے نہیں، بلکہ صرف مارکیٹ رسک مینجمنٹ سے ہے۔
سرمایہ کاری کی کوئی حد یا ٹائم فریم مقرر نہیں
چینی حکام نے نہ تو امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کی کوئی مخصوص حد مقرر کی ہے اور نہ ہی اس فیصلے کیلئے کوئی وقت کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام فوری دباؤ کے بجائے ایک احتیاطی اور تدریجی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اگرچہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی و تجارتی تناؤ اب بھی موجود ہے، تاہم گزشتہ سال تجارتی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ حد تک استحکام دیکھا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چینی بینکوں کو ٹریژریز کے حوالے سے دی گئی یہ ہدایت چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹیلی فونک رابطے سے پہلے جاری کی گئی تھی۔
مارکیٹ پر فوری اثرات، بانڈ ییلڈ میں اضافہ، ڈالر کمزور
اس خبر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ ایشیائی مارکیٹ میں مختلف مدتوں کے بانڈز پر منافع (Yield) میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ڈالر بھی دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے فون پر بات چیت کی تھی، اپریل تک بیجنگ میں ایک اعلیٰ سطحی صدارتی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چینی بینکوں کے پاس 298 ارب ڈالر کے بانڈز موجود
اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر تک چینی بینکوں کے پاس تقریباً 298 ارب ڈالر مالیت کے ڈالر میں نامزد بانڈز موجود تھے، جو عالمی مالیاتی نظام میں چین کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
چین کا بڑا مالیاتی فیصلہ: بینکوں کو امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری محدود کرنے کی ہدایت
Comments are closed.