امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک اسرائیلی قبضے کے خلاف بول پڑے، سخت مؤقف
فوٹو : فائل
واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ واضح طور پر مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں استحکام ہی اسرائیل اور پورے خطے کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول اور اس کی توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں امن اور استحکام قائم ہونے سے نہ صرف فلسطینی عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ اسرائیل کی سلامتی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق فلسطینی علاقوں میں استحکام خطے میں پائیدار امن کے قیام کے امریکی ہدف کے عین مطابق ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو کشیدگی میں اضافے، انسانی بحران یا علاقائی عدم استحکام کا باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات، باہمی رضامندی اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی کابینہ کے حالیہ فیصلوں پر شدید ردعمل دیا ہے۔ لندن سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو وسعت دینے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق فلسطین کی جغرافیائی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔
برطانوی بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں توسیعی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام فیصلے واپس لے جو فلسطینی علاقوں کے غیر قانونی الحاق یا آبادی کی جبری منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ادھر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی حقِ خودمختاری نہیں ہے اور اس قسم کے اقدامات فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے خطرناک اور اشتعال انگیز اقدامات سے فوری طور پر باز رکھے۔ مسلم ممالک کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی الحاق کی کوششیں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کو بھی مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
بیان میں زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو ان کا جائز حقِ خود ارادیت دینا، 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی واحد ضمانت ہے۔ مسلم ممالک نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کریں۔
امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک اسرائیلی قبضے کے خلاف بول پڑے، سخت مؤقف
Comments are closed.