عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کو پاکستانی ویزا کیوں نہ مل سکا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

فوٹو : فائل 

لندن / اسلام آباد :سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کو پاکستانی ویزا کیوں نہ مل سکا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور اس وقت قید میں ہیں ان کے دو صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان کو لندن میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے ویزا جاری نہ ہونے کا معاملہ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔

اس حوالے سے روزنامہ جنگ کی رپورٹس کے مطابق ویزا مسترد نہیں کیا گیا بلکہ درخواستیں تاحال التوا کا شکار ہیں، جس کی وجہ درخواستوں میں موجود تکنیکی اور دستاویزی خامیاں بتائی جا رہی ہیں۔

ویزا درخواستیں اسلام آباد میں زیرِ التوا، وزارت داخلہ کا کردار

 رپورٹ میں سفارتی ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ قاسم خان اور سلیمان خان کی ویزا درخواستیں اس وقت اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ کے متعلقہ سیکشن میں زیرِ التوا ہیں۔ دونوں درخواست گزاروں نے گزشتہ ماہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ویزا کے لیے درخواست دی تھی، تاہم ضروری معلومات اور وضاحتیں فراہم نہ کیے جانے کے باعث یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے درخواست گزاروں کو آگاہ کیا تھا کہ ان کی درخواستوں میں کچھ خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنا ضروری ہے، مگر مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

درخواستوں میں تکنیکی خامیاں، سفری تاریخ اور تعلق کی وضاحت شامل نہ ہو سکی

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاسم خان اور سلیمان خان دونوں برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز ہیں اور انہوں نے اپنی جائے پیدائش لندن ظاہر کی ہے۔ ویزا درخواستوں میں پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا خاندانی، تعلیمی یا قانونی تعلق واضح طور پر درج نہیں کیا گیا، جو کہ پاکستانی ویزا قوانین کے تحت ایک اہم تقاضا سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں درخواست گزاروں نے ویزا فارم میں اپنی سابقہ سفری تاریخ (Travel History) بھی مکمل اور درست انداز میں فراہم نہیں کی، جس کے باعث درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل متاثر ہوا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اضافی وضاحتیں طلب کی گئیں، تاہم ان پر بروقت عمل نہیں کیا گیا۔

ویزا مسترد نہیں ہوا، معاملہ ابھی کھلا ہے: سفارتی مؤقف

سفارتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ قاسم خان اور سلیمان خان کی ویزا درخواستیں مسترد نہیں کی گئیں بلکہ صرف تکنیکی بنیادوں پر زیرِ التوا ہیں۔ اگر درخواست گزار مطلوبہ دستاویزات اور معلومات فراہم کر دیں تو ویزا کے اجرا پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتی مشنز ویزا پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کے پابند ہیں اور کسی بھی درخواست گزار کو قوانین سے بالاتر سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی شخصیت سے ہو۔

سیاسی حلقوں میں ردعمل، انسانی ہمدردی کا پہلو بھی زیر بحث

اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے یا یہ محض انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ معاملہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ سے متعلق ہے، اس لیے اسے انسانی ہمدردی کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے، جبکہ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ ویزا قوانین سب کے لیے یکساں ہیں۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے پاکستانی ویزا حاصل کرنا ایک معمول کا عمل ہے، بشرطیکہ تمام مطلوبہ معلومات مکمل اور درست فراہم کی جائیں۔

Comments are closed.