چین میں پاکستانی طلبہ کی تعلیمی کامیابیاں اور ثقافتی زندگی، نئے چینی سال کا رنگا رنگ جشن

شِنہوا کی رپورٹ

چین میں پاکستانی طلبہ کی تعلیمی کامیابیاں اور ثقافتی زندگی، نئے چینی سال کا رنگا رنگ جشن

فوٹو : شِنہوا

گوئی یانگ :چین میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں بلکہ مقامی ثقافت میں گھل مل کر نئے چینی سال کی تقریبات میں بھی بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔ شِنہوا نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں پاکستانی طلبہ کی زندگی تعلیم، تحقیق اور ثقافتی تجربات کا حسین امتزاج بن چکی ہے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سہراب خان، جو گوئی ژو یونیورسٹی میں فارمیسی کے انڈرگریجویٹ طالب علم ہیں، کے لیے گزشتہ سال کا سب سے یادگار لمحہ لیبارٹری میں رات گئے تک محنت کرنا تھا۔ انہوں نے کرومیٹو گرافی کے ایک تجربے کو کامیاب بنانے کے لیے طریقہ کار کو چار مرتبہ دہرایا، یہاں تک کہ بالآخر کامیابی حاصل ہوئی۔ سہراب کے مطابق یہ کامیابی ان کی محنت کا ثمر تھی اور اس میں گزارا گیا ہر لمحہ قیمتی ثابت ہوا۔

جدید تعلیمی سہولیات، پاکستانی طلبہ کی کامیابی کی بنیاد

سہراب خان نے ستمبر 2024 میں چین میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے سینئرز سے متاثر ہو کر گوئی ژو یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے جدید تعلیمی وسائل، بالخصوص فارمیسی کی لیبارٹریز میں دستیاب سہولیات اور جدید آلات نے انہیں بے حد متاثر کیا۔ ان کی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ سمسٹر میں انہوں نے متعدد مضامین میں 85 سے زائد نمبر حاصل کیے اور چینی زبان کی مہارت کے امتحان ایچ ایس کے لیول 3 میں بھی کامیابی حاصل کی۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ سہراب نے چین کے مختلف شہروں جن میں چھونگ چھنگ، شی آن اور گوانگ ژو شامل ہیں، کا سفر بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی زبان سیکھنے سے انہیں مقامی ثقافت کو قریب سے سمجھنے اور لوگوں سے بہتر طور پر گھلنے ملنے کا موقع ملا۔ نئے سال کی تعطیلات کے دوران انہوں نے رونگ جیانگ کاؤنٹی میں منعقد ہونے والی ویلیج سپر لیگ بھی دیکھی، جو نچلی سطح کا ایک مقبول فٹ بال ٹورنامنٹ ہے۔

تحقیق، ثقافت اور نیا چینی سال: پاکستانی طالبات کا منفرد تجربہ

گوئی ژو یونیورسٹی میں مائیکرو بایولوجی میں زیرِ تعلیم پاکستانی گریجویٹ طالبہ ثناء گل نے چین میں تحقیقی سہولیات کو بے مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق لیبارٹری 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے، جس سے وہ اپنے تجربات کی پیش رفت مسلسل مانیٹر کر سکتی ہیں۔ ان کی موجودہ تحقیق چینی ساؤرکراوٹ کی مائیکروبیل خمیر کاری پر مرکوز ہے، جس کا مقصد اس روایتی خوراک کے ذائقے کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ثناء گل نے چین میں روزمرہ زندگی کی ڈیجیٹل سہولیات کو بھی سراہا، جن میں کیو آر کوڈ کے ذریعے سائیکل کرایہ پر لینا، ٹیکسی منگوانا اور آن لائن خریداری شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں زندگی محفوظ، آسان اور دوستانہ ہے، یہاں وہ رات کے وقت اکیلے باہر جانے میں بھی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

پیر کے روز گوئی ژو یونیورسٹی کے کالج آف انٹرنیشنل ایجوکیشن میں ایک ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا، جہاں بین الاقوامی طلبہ نے ڈمپلنگز بنانا اور بہار کے تہوار کے روایتی جملے لکھنا سیکھے۔ یوں پاکستانی طلبہ بھی 17 فروری سے شروع ہونے والے نئے چینی سال کی خوشیوں میں شریک ہو گئے۔

ثناء گل نے بتایا کہ بہار کے تہوار کے دوران انہیں چینی ثقافت کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ 2025 میں ان کے شوہر نے بھی چند ماہ چین میں قیام کیا اور وہ بھی یہاں کے تعلیمی اور تحقیقی ماحول سے متاثر ہوئے۔ ثناء اس وقت کیمپس میں رہتے ہوئے اپنی تحقیق اور مقالے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور آئندہ سمسٹر میں اعلیٰ معیار کے تحقیقی نتائج حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔

چین میں پاکستانی طلبہ کی تعلیمی کامیابیاں اور ثقافتی زندگی، نئے چینی سال کا رنگا رنگ جشن

Comments are closed.