قصور میں معصوم بچی سے مبینہ زیادتی کا ایک اور واقعہ

فوٹو : قصور پولیس

قصور،پنجاب : قصور میں معصوم بچی سے مبینہ زیادتی کا ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا ہے جہاں بچی (الف، ف) کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے ایک گندے نالے میں پھینک دیا گیا، یہ افسوسناک واقعہ شہر کے علاقے غربی بستی میں پیش آیا ہے.

قصور پولیس کے مطابق سفاک ملزمان نے بچی کو جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ زندہ بچ گئی۔ رات کے اندھیرے میں نالے میں پڑی رہنے والی اس بچی نے جب صبح ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کے بارے میں بتایا جس کے بعد اسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے بچی کی نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے علاج کے لیے پروفیسر آمنہ کی سربراہی میں نو رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔

جنرل اسپتال کی ڈی ایم ایس ڈاکٹر انعم کا کہنا ہے کہ بچی اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے جہاں اس کے ضروری طبی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی اسے ذہنی صدمے سے نکالنے کے لیے کاؤنسلنگ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایمان فاطمہ پر مبینہ تشدد اور زیادتی کے واقعے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے فوری طور پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ بچی کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور اس پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سارہ احمد کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں بیورو کا عملہ مسلسل اس کے ساتھ موجود ہے تاکہ علاج، حفاظت اور دیکھ بھال کے تمام مراحل میں بچی اور اس کے خاندان کو سہارا دیا جا سکے۔

بیورو حکام کے مطابق متاثرہ بچی کے لیے قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے افسران، ماہرِ نفسیات، طبی عملہ اور تربیت یافتہ چائلڈ اٹینڈنٹس پر مشتمل ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ ٹیم کا مقصد نہ صرف بچی کے فوری علاج کو یقینی بنانا ہے بلکہ اسے ذہنی صدمے سے نکالنے اور مستقبل میں بحالی کے عمل میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل راؤ ندیم اختر کی قیادت میں اعلیٰ افسران اور سائیکالوجسٹ نے اسپتال میں متاثرہ بچی سے ملاقات کی اور اس کی حالت سے آگاہی حاصل کی۔

افسوسناک واقعہ پر چیئرپرسن سارہ احمد نے واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب بچوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور متاثرہ بچی کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ بیورو کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متاثرہ بچی کی شناخت اور وقار کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور اس کی بحالی تک ہر سطح پر معاونت جاری رہے گی۔

https://

قصور پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن ضیاء الحق نے بتایا کہ اس سنگین واقعے کی تحقیقات کے لیے تین خصوصی ٹیمیں بنا دی گئی ہیں جو مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں۔

ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو جلد ہی ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔

قصور میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر پرانی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں اور علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شہر میں درندگی سے بھرپور ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔

واضح رہے سال 2015 میں قصور میں ایک بڑے بچوں کی فحش ویڈیوز کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا تھا۔ صحافیوں اور پولیس نے ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو کم عمر بچوں، خاص طور پر لڑکوں، کی ویڈیوز بنا کر ان کے خاندانوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ اس نیٹ ورک کے تحت چار سو سے زائد ویڈیوز بنائی گئیں۔

Comments are closed.