سہیل آفریدی گھبرانہ نہیں!
انصار عباسی
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام خواتین کالجز میں منعقد ہونے والی تقاریب کیلئے جو نئے ایس او پیز جاری کیے ہیں، انکے تحت موسیقی، ڈانس، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقاریب میں موبائل فون لانے اور استعمال کرنے، غیر نصابی سرگرمیوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے اور کالج یونیفارم کے بغیر شرکت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔
مزید یہ کہ کسی بھی تقریب کے انعقاد سے قبل ڈائریکٹر ایجوکیشن یا ریجنل ڈائریکٹر سے تحریری اجازت اور شرکاء و مہمانوں کی فہرست فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یعنی اگر ایک جملے میں اس حکم نامہ کا خلاصہ پیش کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی بے شرمی اور بے حیائی کو روکنے کیلئے یہ قدم اُٹھایا گیا ہے جسکی تحسین کرنی چاہیے اور جس پر وزیراعلیٰ
سہیل آفریدی مبارکباد کے بھی مستحق ہیں۔
یہ اقدامات محض انتظامی سختی نہیں بلکہ ایک واضح فکری سمت کا اظہار ہیں، جسکی بنیاد شرم و حیا، وقار اور اسلامی سماجی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ خاص طور پر نوٹیفکیشن میں”حیا” کا لفظ شامل ہونا اس فیصلے کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ آج کے دور میں پالیسی سازی کے عمل میں یہ لفظ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اور یہ بات صرف تقریروں یا نصابی اسباق تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ آئینِ پاکستان ریاست کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دے جہاں اسلامی اقدار، تہذیب اور اخلاقی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیاد ہوتے ہیں، اور اگر انہی اداروں میں اقدار کمزور پڑ جائیں تو اسکے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں میں ہم نے دیکھا کہ تعلیمی اداروں میں ہونے والی بعض تقریبات تعلیم، تربیت اور مثبت سرگرمیوں کے بجائے محض فلمی انداز کی نمائش کا رنگ اختیار کرتی چلی گئیں۔ ڈانس پرفارمنس، موسیقی کے مقابلے اور سوشل میڈیا کیلئے بنائی جانے والی ویڈیوز نے اداروں کے وقار کو متاثر کیا اور والدین میں بھی تشویش پیدا کی۔
ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت کا یہ فیصلہ دراصل والدین کی آواز اور معاشرتی بے چینی کا جواب ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شرم و حیا کسی ایک صنف یا طبقے پر پابندی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا سماجی اصول ہے جو پورے معاشرے کو متوازن رکھتا ہے۔
خواتین کالجز میں وقار، تحفظ اور نظم و ضبط پر زور دینا طالبات کے حقوق کے خلاف نہیں بلکہ ان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ ایک محفوظ اور باوقار ماحول ہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں تعلیم صحیح معنوں میں پروان چڑھتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جیسے ہی اس نوعیت کی کوئی ہدایت سامنے آتی ہے، ملک کا ایک مخصوص لبرل میڈیا کا طبقہ فوری طور پر اسے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
آزادیِ اظہار، جدیدیت اور ترقی کے نام پر شور مچایا جاتا ہے، اور ریاستی اقدامات کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، اور پہلے ہی اس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کو میڈیا کے دباؤ یا شور شرابے سے خوفزدہ ہو کر اپنے آئینی اور اخلاقی فرائض سے دستبردار ہو جانا چاہیے؟
اگر ہم واقعی اپنی اسلامی شناخت، خاندانی نظام اور سماجی اقدار کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں تو پھر ان کے تحفظ کیلئے مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے، چاہے اس پر وقتی تنقید ہی کیوں نہ ہو۔ ریاست، حکومت، والدین اور معاشرے کے سنجیدہ طبقات کو اس معاملے پر یک زبان ہونا ہوگا۔
بچوں اور بچیوں کی تربیت صرف گھروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ریاست کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے جو اخلاقی بگاڑ کے بجائے کردار سازی کا ذریعہ بنے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں خیبر پختونخوا حکومت کا کردار قابلِ تحسین دکھائی دیتا ہے۔
اس لیے سہیل آفریدی کو چاہیے کہ کوئی دباؤ آئیں بھی تو اُنہیں ڈٹ جانا چاہیے۔ یعنی گبھرانا نہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک صوبے تک محدود نہ رہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کو بھی اس سمت میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کو شرم و حیا، وقار اور اخلاقی حدود کا شعور نہ دیا تو کل ہمیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں تعلیم، آزادی اور ترقی اقدار کے ساتھ جڑی ہوں۔
خیبر پختونخوا حکومت کا یہ قدم اسی سمت میں ایک جرات مندانہ اور قابلِ تقلید پیش رفت ہے، جس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ بلاجواز مخالفت۔
سہیل آفریدی گھبرانہ نہیں!
(بشکریہ روزنامہ جنگ)
Comments are closed.