سنگاپور ایئر شو: چینی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری کیلئے نیاچیلنج

فوٹو : سوشل میڈیا 

سنگاپور : سنگاپور ایئر شو کے نمائشی ہالز جدید ہوابازی کی دنیا کی مکمل تصویر پیش کر رہے ہیں، جہاں جدید مسافر طیاروں کے ماڈلز، فرضی کاک پٹس اور انٹرایکٹو ڈسپلےز شائقین اور ماہرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انہی ہالز میں ایک بوتھ خاص طور پر نمایاں دکھائی دے رہا ہے، جو چین کی سرکاری مسافر طیارہ ساز کمپنی کومیک (COMAC) کا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق کومیک کے تیار کردہ مسافر طیارے سی 919 نے دو سال قبل سنگاپور کے لیے اپنی پہلی بین الاقوامی پرواز بھری تھی۔ یہ طیارہ عالمی ہوابازی کے دو بڑے ناموں، ایئر بس A320 نیو اور بوئنگ 737 میکس، کے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور اب چین سے باہر کی منڈیوں میں بھی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایشیا پیسیفک خطہ اس وقت دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ہوابازی کی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں جب فضائی کمپنیاں طیاروں کی ترسیل میں تاخیر اور سپلائی چین کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، سنگاپور ایئر شو کومیک کے لیے ایک سنہری موقع بن کر سامنے آیا ہے کہ وہ خود کو ایئر بس اور بوئنگ کے ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کرے۔

بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کومیک عالمی سطح پر ایک مضبوط کھلاڑی بن سکتی ہے، تاہم اس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ ان کے مطابق آئندہ 10 سے 15 برس میں عالمی ہوابازی کی صنعت میں بوئنگ، ایئر بس اور کومیک تین بڑے نام ہوں گے۔

ولی والش کا مزید کہنا تھا کہ اگر طیارے بروقت دستیاب ہوں تو ایشیا پیسیفک کی فضائی کمپنیاں 2026 تک دو ہندسوں میں ترقی حاصل کر سکتی ہیں، تاہم اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طیارے کا آرڈر دینے اور اس کی فراہمی کے درمیان تقریباً سات سال کا عرصہ لگ جاتا ہے، جو فضائی کمپنیوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔

اس وقت چین میں 150 سے زائد کومیک طیارے استعمال میں ہیں، جبکہ لاؤس، انڈونیشیا اور ویتنام میں بھی ان طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ برونائی کی فضائی کمپنی گیلپ ایئر نے کومیک طیاروں کا بڑا آرڈر دیا ہے، جبکہ کمبوڈیا بھی تقریباً 20 طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

سنگاپور ایئر شو میں شامل طیارے

ایشیا پیسیفک ایئرلائنز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل سبھاس مینن کا کہنا ہے کہ ہوابازی کی صنعت کو مزید سپلائرز کی اشد ضرورت ہے تاکہ سپلائی چین پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو سکے۔ ان کے مطابق کومیک کا مارکیٹ میں آنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے، خاص طور پر ایشیا پیسیفک کے لیے۔

یورپی سرٹیفیکیشن، سپلائی چین اور تربیت: کومیک کے سامنے بڑے چیلنجز

کومیک کو چینی حکومت کی سرپرستی، نسبتاً کم قیمت طیارے اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں رسائی جیسے عوامل کی بدولت فائدہ حاصل ہے، جو محدود سرمایہ رکھنے والی فضائی کمپنیوں کے لیے اسے ایک پرکشش انتخاب بناتے ہیں۔

تاہم کومیک کے سامنے چیلنجز بھی کم نہیں۔ یورپی سرٹیفیکیشن کا عمل ایک طویل اور پیچیدہ مرحلہ ہے، جس کے بارے میں ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ 2028 سے لے کر 2031 تک بھی مکمل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت، پائلٹس کی تربیت اور مغربی معیار کے مطابق سافٹ ویئر و فلائٹ کنٹرولز کی تیاری بھی بڑے مسائل ہیں۔

ادھر برازیل کی طیارہ ساز کمپنی ایمبریئر بھی ایشیا پیسیفک میں اپنی مضبوط موجودگی رکھتی ہے، جس کے طیارے سنگاپور، آسٹریلیا اور جاپان کی بڑی فضائی کمپنیوں خرید رہی ہیں۔

اگرچہ بوئنگ اور ایئر بس نے ترسیل میں بہتری کا وعدہ کیا ہے، لیکن جب تک کومیک اپنی پیداواری صلاحیت، شفافیت اور عالمی معیار پر پورا اترنے کے مسائل حل نہیں کرتی، امکان یہی ہے کہ ایشیا پیسیفک کی فضاؤں پر بدستور بوئنگ اور ایئر بس کی حکمرانی قائم رہے گی۔

سنگاپور ایئر شو: چینی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری کیلئے نیاچیلنج

Comments are closed.