سانحہ بھاٹی گیٹ، 4افسر برخاست، گرفتاری کا حکم، عظمیٰ بخاری ذمہ داری قبول کرکے بچ گئیں

{"remix_data":[],"remix_entry_point":"challenges","source_tags":[],"origin":"unknown","total_draw_time":0,"total_draw_actions":0,"layers_used":0,"brushes_used":0,"photos_added":0,"total_editor_actions":{},"tools_used":{"transform":1},"is_sticker":false,"edited_since_last_sticker_save":true,"containsFTESticker":false}

فوٹو : فائل

لاہور : سانحہ بھاٹی گیٹ، 4افسر برخاست، گرفتاری کا حکم، عظمیٰ بخاری ذمہ داری قبول کرکے بچ گئیں، انھوں نے ویڈیو پیغام میں کہا اس افسوسناک واقعے پر دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہوں۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا کہ میں ذاتی طور پر بھی بہت شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں انتظامیہ جو بتا رہی تھی وہ مجھے شئیر کرنا پڑا،استعفی کے لئے بھی تیار تھی لیکن وزیر اعلی کا حکم تھا کہ میری غلطی نہیں ہے،اللہ پاک سب کی حفاظت فرمائے آمین۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ پر سخت اظہار برہمی کیا اور انتظامیہ،ایل ڈی اے ،واسا سمیت ذمہ داراداروں کی کارکردگی پر سخت سرزنش کی گئی۔پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہد حسین، اصغر سندھو،سیفٹی انچار ج دانیال اور پراجیکٹ منیجر احمد نوازکو عہدے سے ہٹانے اورگرفتارکرنے کا حکم دے دیا۔

سانحہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر کو کنٹریکٹر کی طرف سے ایک کروڑ روپے زرتلافی اور حکومت کی طرف سے روزگار کے لئے ٹیکسی مہیا کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر میں جاری پراجیکٹ میں گڑھے اورمین ہول وغیرہ پوری طرح کورکر کے رات کو لائٹس جلانے کی ہدایت بھی کی ۔

لاہور ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ہنگامی اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ کی رپورٹ پیش کی۔وزیراعلیٰ نے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتمادکا اظہار کیا۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھاٹی گیٹ صوبے کا دوردراز علاقہ نہیں ہے بلکہ لاہور کا ایک معروف علاقہ ہے ۔اس علاقے میں کنسٹرکشن سائٹ پر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیاگیا۔کام بند ہونے کے بعد کنٹریکٹر اورور کرز مین ہول کھلا چھوڑ کرچلے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنرنے وزٹ کر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ میں کنٹریکٹر،سپروائزر،کنسلٹنٹ،کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور،اسسٹنٹ کمشنر،ایل ڈی اے اوروا سا بھی برابر کے قصور وار ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کنسٹرکشن سائیٹ پر کام ہورہا ہو تو سمجھ میں آتی ہے اور کام ختم کرنے کے بعد مین ہول کو لوگوں کو مرنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ سب کو اندازہ ہوگا کہ میں اس معاملے میں اتنی سختی کیوں کرتی ہوں۔ذرا سوچئے کہ وہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی تو میں آپ سے پوچھتی تو پورا سسٹم ہل کر رہ جاتا جنہوں نے مین ہول کھلا چھوڑا کیا ان کے اپنے بچے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مجرمانہ غفلت کہنا بھی چھوٹی بات لگتی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ذمہ دار اداروں کی نالائقی،غفلت کی وجہ سے نہ صرف خاتون کی جان گئی بلکہ دس ماہ کی بچی بھی جان کی بازی ہار گئی۔ ان کو دیکھ کر ذمہ داروں کو خدا کا خوف نہیں آتا۔یہاں دس دس ادارے موجود ہیں لیکن ذمہ دارکوئی بھی نہیں۔صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور کی جان بھی جان ہوتی ہے۔

پنجاب ایسی جگہ نہیں جہاں خدانخواستہ گرکر مرجائے تو کسی کو پروا نہیں،یہاں میں بھی جواب دہ ہوں اور آپ کو بھی جواب دینا ہوگا۔واقعہ کو گھمانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے ۔ ایسے دکھایاگیا کہ جیسے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔پہلے ہم سے کہا گیا کہ کوئی عورت گری ہی نہیں جبکہ وہ تین کلومیٹر دور تک پہنچ گئی۔

انھوں نے کہا کہ ہم یہ کہہ رہے تھے کہ وہ گری ہی نہیں اوراس کے بعد اس کے شوہر کو پکڑ کر تھانے لے گئے ۔بجائے اس کے کہ اس کو دلاسہ دیتے کہ ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں اورہم انہیں ڈھونڈتے ہیں۔سیف سٹی ہیڈ نے بتایا کہ وہاں کنسٹرکشن کی وجہ سے کیمرے عارضی طورپر ہٹا ئے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا میں ہدایت کرتی ہوں کہ جہاں بھی کنسٹرکشن کے کام کی وجہ سے کیمرے ہٹانے پڑے ہیں ان کی جگہ عارضی موبائل یا وائرلیس کیمرے لگائے جائیں۔لوگوں کے لئے جھوٹ بولنا بہت آسان ہوتا ہے شاید کیمرے نہ ہونے کی وجہ سے کہہ دیا کہ عورت مین ہول میں گری ہی نہیں۔

آپ نے اللہ کو جواب دینا ہے ۔کمشنر،ڈی سی لاہور،ڈی جی ایل ڈی اے اوریہاں موجود ڈیپار ٹمنٹ ہیڈ مجھے اس بات کا جواب دیں۔اصولاً کمشنر،ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے کو بھی سزا ملنی چاہیے ۔اسسٹنٹ کمشنرجوکہ 2023سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں،انہیں پتہ ہی نہیں کہ یہاں کنسٹرکشن ہورہی ہے ۔مین ہول میں گر کر مرنے اورمرڈر میں کوئی فرق نہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مرنے والی خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ ایک بندے نے مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ تم مذاق کر رہے ہو، تمہاری بیوی گری بھی ہے کہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ لاہور کے دل میں ایک معصوم جان کا ضیاع محض حادثہ نہیں، یہ ایک جرم ہے اور اس نے میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔

ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نااہلی چھپانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ جو افسر کھلے مین ہول کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے انہیں عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

میں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھوں گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا، دونوں بیٹیوں کے خون کا حساب نہیں ہوتا اور ہر ذمہ دار کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا ۔ ادھر لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب کھلے گٹر میں گرنے والی کمسن بچی کی لاش بھی برآمد ہوگئی، والدہ کی لاش ایک روز قبل وقوعہ والے دن ہی 4 گھنٹے بعد مل گئی تھی.

پولیس نے متوفیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال، سائیٹ انچارج احمد نواز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئرسمیت پراجیکٹ کی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ، کنٹریکٹر کیخلاف فوری مقدمہ درج کرانے کی بھی ہدایت کردی گئی۔

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی، واقعہ پر ٹیپا انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ غلط دی اور غلط بریف کیا ، بعض ویڈیوز اور شوہر کا بیان سننے کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا۔

دوسری طرف ٹیپا نے بھی واقعے پر مقدمہ درج کرانے کے لیے تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس کو باضابطہ درخواست دے دی ، منصوبے کے ٹھیکیدار پر حفاظتی انتظامات نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

حادثے کے حوالے سے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے آفیشل پیج پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں بھی ذمہ داری قبول کرتی ہوں انھوں نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تاہم وزیر اعلیٰ نے اجازت نہیں دی.

Comments are closed.