عوام کو براہ راست پارلیمنٹ تک رسائی دینے کی تجویز، وزارت قانون کی مخالفت
فوٹو : فائل
اسلام آباد : عوام کو براہ راست پارلیمنٹ تک رسائی دینے کی تجویز، وزارت قانون کی مخالفت سامنے آئی ہے ، یہ تجویز پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اےڈاکٹر نفیسہ شاہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے.
نفیسہ شاہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک کے شہریوں کو پارلیمنٹ تک براہ راست رسائی ہونی چاہیے اس کیلئے انھوں نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طریق کار2007کے رول 295 اور 296 میں ترمیم پیش کردی۔
مجوزہ ترمیم تحت کوئی بھی شہری اپنے مسائل متعلق عوامی پٹیشن سپیکر قومی اسمبلی کے روبرو پیش کرسکے گا۔وزارت قانون و انصاف نے مجوزہ ترامیم کی مخالفت کردی۔
اس حوالے سے وزارت قانون کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترامیم سے جنرل پبلک کیلئے ایک متوازی جوڈیشل سسٹم قائم ہو جائے گا۔ وزارت پارلیمانی امور نے بھی وزارت قانون و انصاف کے مؤقف کی تائید کردی۔
شہری قومی اسمبلی کے سامنے عوامی پٹیشن نجابی، سندھی، پشتو، بلوچی یا کسی اور مقامی زبان میں بھی دائر کر سکیں گے۔شکایت کنندہ کی درخواست پر اس سے متعلق معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا.
واضح رہے کہ پاکستان میں کئی ایسے عوام کے حق میں قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا، سرکاری اداروں میں کرپشن اور معلومات تک رسائی کا قانون بھی موجود ہے لیکن سرکاری اداروں سے متعلق عوام یا صحافیوں کو رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں.
Comments are closed.