تیراہ اور کرم کا دُکھ
وقار فانی مغل
تیراہ اور کرم کی وادیوں میں جہاں سردی کی شدت نے انسانی جانوں کو اپنا نشانہ بنایا وہاں حکومتی بے رحمی نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ”بے دخلی“ کی حالت نے ایک نئی قیامت کو جنم دیاہے جہاں گھر، زمین، اور ان کا مال و متاع سب کچھ ان سے دور کر دیا گیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ برفباری کی چادر تلے متعدد گھرانوں کے خواب چکنا چور ہوگئے۔حوادث کی اس کڑی میں ایک متاثرہ گھرانے کے دو بیٹوں کی زندگی کی بازی ہار جانے کی خبر نے بھی افسردہ کیا۔
ایک ایسا درد جو الفاظ سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ باپ زخمی حالت میں زندگی کی جنگ لڑے گا اور ماں اپنی قسمت کو کوستی رہے گی۔چاہتے ہوئے بھی میں ان کا انٹرویو نہ کر سکا حوصلہ ہی نہ تھا۔سوچتا ہوں جبر کی اس صورتحال میں جب کل اثاثہ ہی لٹ جائے تو باقی کی زندگی بے معنی سی ہو کر نہیں رہ جاتی؟
کتنا بد نصیب ہے یہ متاثرہ جوڑا جن کی آنکھوں میں مر جانے والے دونوں بیٹوں کی یادوں کا سمرقند اڑتا ہی رہے گا۔میں صدہ میں ہوں اور ایک منظم کیمپ کو دیکھنے جاتا ہوں وہاں سب کچھ ہے مگر مکینوں کی آنکھوں میں جو حیرانی ہے اس کے سامنے سب ہیچ لگتا ہے۔
ایک طرف برف سے ڈھکے خیموں میں انسانیت کا المیہ اور چند فرلانگ کے فاصلے پر افسران کا انگیٹھیوں کی تپش میں براجمان ہوتا دیکھ کر میری ہچکی بندھ جاتی ہے۔اے خالق و مالک یہ کیا ہے؟

ایک ہی نیلے آسمان تلے دو مختلف روپ۔ سیکڑوں بچوں کو بنا سویٹر بنا کسی اوور کوٹ کے ننگے سر برف میں دیکھا،ان کی آنکھوں میں ویرانیوں کے ڈیرے تھے میری جانب سے دی گئی چاکلیٹ کوبھی وہ خوش دلی سے قبول نہ کرتے دیکھے گئے۔
انسانیت کی خدمت اور فلاح کے جذبہ سے لبریز ”پیر اکرام جان“کی بدولت مجھے کرم میں کچھ سہولت میسر تھی۔سخت سردی اور برفباری نے نہ صرف زمین بلکہ انسانی دلوں کو بھی منجمد کردیا تھا۔کہیں بھی کوئی اُمید اور آس کی کرن دیکھتے تو متاثرین کا قصہ سنانے لگ جاتے۔
زندگی کی دکھ بھری داستانوں میں یہ بھی ایک ایسی داستان بنتی جا رہی تھی جو مرہم لگانے کی بجائے مزید زخم کھول رہی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہیں جہاں انسانیت کی سسکیاں بے آواز ہوں؟ جہاں لوگ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں اور کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ ہو؟
تیراہ اور کرم کی وادیوں میں گزری ہر سرد رات اپنے دامن میں بے شمار کہانیاں چھپائے ہوئے تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب متعدد خاندان اپنے بچوں،مال مویشیوں کے ساتھ سخت حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے گھر کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
ایک خیمے سے آنے والی ذہنی معذور نوجوان کی چیخیں ابھی بھی کانوں میں سنائی دیتی ہیں شاید وہ خیمے سے باہر کی فضا کو ترس رہا تھا یا اسے یہ جبر ناپسند تھا۔میں نے اسے ماں کے ساتھ بیٹھے دیکھاتو اس ماں پر رشک آیا۔خواب آنکھوں میں لیے وہ آسمان کو دیکھ رہے تھے۔
ماسٹر جمیل کے مسکن صدہ میں یہ وہ پل تھے جب وقت تھم سا گیا تھا اور زندگی کی تمام خوبصورت یادیں چکنا چور ہو گئی تھیں۔عارضی سکول تو ہے مگراس میں کوئی استادیاا ستانی نہیں۔ ایک خیمہ میں رکھی الماری میں دوائیاں بھری ہوئی تھیں مگر بیمار کوئی نہ تھا۔چند جھولوں پر بچے دل تو بہلا رہے تھے مگر دماغ ان کا کہیں اور پایا گیا۔
انسانیت کے لیے ہر کردار سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔کسی جانب سے بھی درد کو محسوس کرنے، بولنے یا عمل کرنے کی کوئی ظاہر ی صلاحیت دیکھنے کو نہ مل سکی۔جگہ جگہ ناکے،رکاوٹیں،چیک پوسٹ اور بے یقینی کے ڈیرے خوف کا منظر گہرا کرتے جارہے تھے۔”ہلال احمر پاکستان“ جیسے ادارے کی اس وادی میں قدرو منزلت سننے اور دیکھنے سے جی خوش ہوا اور حوصلہ بھی بڑھا۔
متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کا تعین اور ہدف کی تکمیل کامشن مکمل ہوا تو ہمیں بھی قدرے سکون ملا مگر دھندلے چہرے آنکھوں سے ہٹ نہ پائے۔ایک آسمان کے نیچے دو مختلف تصویریں بار بار ابھر رہی تھیں ایک طرف انسانیت کا المیہ ہے برف سے ڈھکے خیموں میں انتظار کرتے ہوئے لوگ دن رات کی سردی میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسانی تکالیف اور مصائب نے مجھے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جو آج دوسروں کے ساتھ ہواہے وہ کل خود ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ پانی اور معدنی وسائل کہاں چھپائے جا سکتے ہیں۔
بابا جی کا ہمیں نماز کے وضو کے لئے گرم پانی بہم پہنچانا،اپنے ہاں بطور مہمان رکھے متاثرہ گھرانے بابت بتانا،مہمان نوازی کی سب حدوں کو چھو جانا،دعائیں دینا کب بھلایا جا سکتا ہے۔میری روزمرہ کی ڈائری سرخ رنگ کی تھی اور میرا لکھا ہوا جیسے خون ٹپکا رہا ہو۔۔۔دیکھا تو بہت کچھ مگر سارا لکھ نہ پائے،سوچ جیسے منتشر ہوگئی ہو اور یہی لگتا کہ متاثرہ بچے ہمیں مسلسل دیکھ رہے ہیں۔
کہانی کے سب کردار جب کھل نہ پائیں تو الجھن رہتی ہے یہاں بھی کہانی سلجھی ہوئی نہ مل سکی ہر کردار بنا کسی وقفہ کے پراسرار اور تجسس بڑھانے ولا تھا۔یہاں بتاتا چلوں کے ہلال احمر پاکستان کی چیئرپرسن محترمہ فرزانہ نائیک کی دور اندیشی اور فہم و فراست نے ہمیں ایک ایسی روشنی دکھائی جس کی لو میں یہ عقدہ وا ہواکہدنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کا المیہ ہمارے معاشرتی نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
قیادت کے دور اندیش وژن اور انسان دوست بصیرت کی بدولت ریسپانس ٹیموں نے اپنے رضاکار ساتھیوں کے ہمراہ سخت موسم، منفی درجہ حرارت اور دشوار گزار راستوں کے ہوتے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے کو سرد نہیں ہونے دیا۔
نصف صدی سے یہ سب دیکھنے والے ایک ”علی شیر زئی“ کا کہنا تھا کہ کرم اور تیراہ کے علاقوں سے خاندانوں کا انخلا تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آنے والے تنازعات اور عسکری کارروائیوں سے جڑا ہوا ہے۔ برطانوی دور میں بھی مہمات چلائی گئیں جن کے نتیجے میں مقامی آبادی کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ خطہ انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز کا شکار رہا تاہم سب سے بڑی نقل مکانی اکیسویں صدی کے آغاز میں دیکھی گئی جب شدت پسندی، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ریاستی آپریشنز کے باعث ہزاروں خاندانوں کو کرم ایجنسی اور وادی تیراہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
خاص طور پر 2007ء کے بعد کے حالات میں گھروں کی تباہی، راستوں کی بندش اور روزگار کے ذرائع ختم ہونے سے عوام شدید متاثر ہوئے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو قبائلی علاقوں میں نقل مکانی محض عارضی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اثرات نسلوں تک محسوس کیے گئے۔ تعلیم کا تسلسل ٹوٹا، قبائلی ڈھانچے کمزور ہوئے اور لوگوں کی زمینوں اور املاک پر تنازعات نے جنم لیا۔

اگرچہ بعد کے برسوں میں واپسی کا عمل شروع ہوا مگر بارودی سرنگوں، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور عدم تحفظ کے احساس نے بحالی کے عمل کو تیز نہ ہونے دیا۔ کرم اور تیراہ کی تاریخ میں یہ انخلا نہ صرف ایک انسانی المیہ بلکہ ریاست اور قبائلی معاشرے کے تعلقات کی ایک اہم مثال بھی بن گیا۔
جب ہم ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی کہانی نظر آتی ہے جو انسانیت کی بے بسی کی عکاسی کرتی ہے،یہ درد ہمیں جوڑتا ہے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اس دھرتی پر ایک ہی آسمان کے نیچے ہم سب ایک ساتھ ہیں۔
تیراہ اور کرم کی وادیوں میں انسانی زندگی کا درد ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت ہمارا فرض ہے اور ہمیں اس دکھ کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہمیں اس سردی میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔
انسانیت مقدم ہے تو یہ بھی جاننا ہوگا کہ ہماری انسانی ذمہ داری کیا ہے۔ ہم سب کو اپنے دلوں میں ہمدردی پیدا کرنا ہوگی۔ ان متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو اس وقت بے پناہ درد کو جھیل رہے ہیں۔
ہمیں ان کا دکھ سننا ہے کیونکہ یہ صرف ان کا دکھ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دکھ ہے۔بے گھری نے ان کی مادی حیثیت اور روحانی و ثقافتی شناخت کو بھی متاثر کیا ہے۔خوف کے گہرے اور موت کے عمیق سایوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ نے والے ان سرد راتوں میں خیموں میں سو نہیں سکتے.
ان کی زندگیوں میں سکون کا کوئی نام و نشان نہیں بچا اور کرتا دھرتا ان کی بے بسی بیچ کر اپنی دوزخ بھر رہے ہیں۔میرایہ بلاگ توجہ دلانے کی ایک معمولی سی کوشش ہے۔ ہمیں اس درد کو سمجھنا ہوگااور بے حسی کی چادر کا بوجھ اپنے دل سے اتارنا ہوگا۔تیراہ اور کرم کے لوگوں کی آہ و فغاں کو سنیں یہ صرف ان کا دکھ نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔
تیراہ اور کرم کا دُکھ
Comments are closed.