امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ تبدیل کرنا پڑا،سوئٹزرلینڈ پہنچنے میں گھنٹوں کی تاخیر

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ تبدیل کرنا پڑا،سوئٹزرلینڈ پہنچنے میں گھنٹوں کی تاخیر

فوٹو : فائل

 زیوریخ : امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ تبدیل کرنا پڑا،سوئٹزرلینڈ پہنچنے میں گھنٹوں کی تاخیر، گرین لینڈ معاملے پر یورپ کی مزاحمت کا سامنا بھی ہے ،ایئر فورس ون میں خرابی کے باعث اسے واپس اتارا گیا اور ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنا پڑا۔

عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے ڈیووس روانگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے "ایئر فورس ون” کو ایک معمولی تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا ،وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ سوئٹزرلینڈ کے لیے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد عملے کو ایک "معمولی برقی خرابی” کا علم ہوا، جس کے بعد ٹرمپ طیارہ تبدیل کرنے کے لیے ریاست میری لینڈ میں قائم اینڈریوز جوائنٹ بیس پر واپس آگئے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ امریکی صدر دوسرے طیارے کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ تاہم طیارہ تبدیل کرنے کے بعد ٹرمپ دوبارہ ڈیووس کے لیے روانہ ہو گئے۔

ڈیووس فورم: گرین لینڈ پر دباؤ، یورپی ممالک کو ٹیرف بڑھانے کی نئی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایئر فورس ون میں بجلی کے ایک معمولی مسئلے کے باعث طیارہ تبدیل کرنا پڑا، جس کے بعد وہ واشنگٹن واپسی اور دوبارہ روانگی کے باعث گھنٹوں کی تاخیر کے بعد سوئٹزرلینڈ پہنچے۔
اس تاخیر کے ساتھ ہی ٹرمپ کا یورپی دورہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب انہیں گرین لینڈ کے معاملے پر شدید مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اے بی سی 7 کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یورپی ممالک کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی ہے، جس سے یورپ اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید گہری ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹرمپ بدھ کے روز سوئس الپس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم (ڈیووس) سے خطاب کریں گے، جہاں ان کا گرین لینڈ سے متعلق جارحانہ مؤقف نیٹو اتحادی ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔

ڈیووس پہنچنے سے قبل ٹرمپ نے بین الاقوامی فورم پر ڈنمارک اور سات دیگر یورپی اتحادیوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے گرین لینڈ کے کنٹرول پر بات چیت نہ کی تو ان پر ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ٹیرف کا آغاز اگلے ماہ 10 فیصد سے ہوگا جو جون تک 25 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ شرحیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان سے قیمتوں میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے، جس سے خود ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کے دعووں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ایک پیغام میں گرین لینڈ پر اپنے سخت مؤقف کو امن کا نوبل انعام نہ ملنے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ اب ’’امن کے بارے میں خالصتاً سوچنے کے پابند نہیں رہے‘‘۔

ڈیووس فورم، منڈیاں اور یورپی کمیشن کے صدر کا انتباہ

اس غیر یقینی صورتحال کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑے۔
منگل کے روز وال اسٹریٹ میں شدید مندی دیکھی گئی، جہاں سرمایہ کاروں نے ٹرمپ کی نئی ٹیرف دھمکیوں اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ بڑھتے تناؤ پر تشویش ظاہر کی۔

  • S&P 500 میں 2.1 فیصد کمی

  • ڈاؤ جونز 1.8 فیصد نیچے

  • نیس ڈیک 2.4 فیصد گر گیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فورم سے خطاب میں کہا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں سلامتی، دفاع اور معیشت میں خطرناک عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ٹیرف نافذ کیے تو یورپی یونین کا جواب متحد، مضبوط اور متناسب ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال طے پانے والا امریکہ-یورپی تجارتی فریم ورک بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف: ’’یہ ایک دلچسپ دورہ ہوگا‘‘

ڈیووس روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا:

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ڈیووس میں رہائش کو سستا بنانے اور امریکی عوام کو درپیش معاشی مسائل پر بات کریں گے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گرین لینڈ اور ٹیرف تنازع ان کے اصل پیغام پر حاوی رہنے کا امکان ہے۔

Comments are closed.