منیاپولس میں ایک آئس ایجنٹ کے ذریعہ رینی نکول گڈ کی مہلک شوٹنگ،ریاست اوروفاق میں ٹکراو
فوٹو : شہنوا
واشنگٹن، (سنہوا) منیاپولس میں ایک آئس ایجنٹ کے ذریعہ رینی نکول گڈ کی مہلک شوٹنگ،ریاست اوروفاق میں ٹکراوکی صورتحال پیدا ہو گئی ہےمنیاپولس میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر امریکہ میں امیگریشن پالیسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور ریاستی و وفاقی اختیارات کے ٹکراؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب اسی علاقے میں ایک ہفتے بعد ایک اور ICE ایجنٹ نے وینزویلا کے ایک تارکِ وطن کو ٹانگ میں گولی مار دی۔ میئر منیاپولس جیکب فری نے کہا ہے کہ شہر کی موجودہ صورتحال “پائیدار نہیں رہی”۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ محض ایک فائرنگ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں مختلف حلقے اپنے اپنے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وفاقی اور مقامی حکومتوں کے درمیان تصادم مزید گہرا ہو سکتا ہے، جبکہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان براہ راست محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک واقعہ، دو متضاد بیانیے
7 جنوری کو منیاپولس میں ہونے والے وفاقی نفاذ کے ایک آپریشن کے دوران 37 سالہ امریکی شہری رینی نکول گڈ کو ICE ایجنٹ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا، تاہم اس واقعے سے متعلق دو بالکل متضاد بیانیے سامنے آئے ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ICE ایجنٹ کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خاتون نے افسران پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی، جسے انہوں نے “گھریلو دہشت گردی کی کارروائی” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ گاڑی چلانے والی خاتون انتہائی بے قابو، مزاحمتی اور پرتشدد تھی، جس نے جان بوجھ کر ICE افسر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایجنٹ نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔
اس کے برعکس، منیاپولس کے میئر جیکب فری کا کہنا ہے کہ دستیاب ویڈیو فوٹیج اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ ان کے مطابق رینی نکول گڈ کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں تھیں اور ICE ایجنٹ نے لاپرواہی سے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کی جان گئی۔
وفاقی و ریاستی تصادم، نیشنل گارڈ کی تعیناتی
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ مینیسوٹا میں تارکینِ وطن سے متعلق فلاحی فراڈ کے الزامات کے تناظر میں 2,000 اضافی امیگریشن ایجنٹس منیاپولس کے علاقے میں تعینات کیے جائیں گے، جس کے بعد ICE اور بارڈر پیٹرول ایجنٹس کی مجموعی تعداد تقریباً 3,000 ہو جائے گی۔
مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور میئر جیکب فری نے ICE سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شہر اور ریاست چھوڑ دیں، ان کا مؤقف ہے کہ وفاقی ایجنٹس کی موجودگی سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ محکمہ انصاف مینیسوٹا کے اعلیٰ حکام، بشمول گورنر والز اور میئر فری، کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
گورنر والز نے اس اقدام کو “سیاسی مخالفین کو دھمکانے اور نظامِ انصاف کو ہتھیار بنانے” کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ رینی گڈ کی ہلاکت کے ذمہ دار وفاقی ایجنٹ کے خلاف اب تک کوئی سنجیدہ تحقیقات نہیں کی جا رہیں۔
تنازع کے دوران ایف بی آئی نے کیس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور مینیسوٹا حکام کی شواہد تک رسائی محدود کر دی گئی ہے، جس پر گورنر والز نے شفافیت اور غیر جانبداری کے فقدان پر شدید تنقید کی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مینیسوٹا نیشنل گارڈ کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایمرجنسی سروسز کی معاونت کی جا سکے۔
ملک گیر احتجاج، گرفتاریوں اور تصادم میں اضافہ
رینی نکول گڈ کی ہلاکت کے بعد منیاپولس اور اس کے گردونواح میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے۔ 8 جنوری کو مظاہرین اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جہاں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
9 جنوری کی شام کو 1,000 سے زائد مظاہرین منیاپولس کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد گرفتار ہوئے۔
10 جنوری کو شدید سرد موسم کے باوجود دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ICE ایجنٹ کی فائرنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج منیاپولس تک محدود نہ رہا بلکہ نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، بوسٹن، فلاڈیلفیا، شکاگو سمیت امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں ملک گیر مظاہروں کی صورت اختیار کر گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بیان بازی اور طاقت کے استعمال نے امریکہ میں پہلے سے موجود سماجی، نسلی اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔
Comments are closed.