پیس بورڈ میں شہبازشریف کی شمولیت کے بعد فلسطینی و حماس کیخلاف کارروائی ہوئی توکیا ہوگا؟
فوٹو : فائل
اسلام آباد : غزہ پیس بورڈ میں شہبازشریف کی شمولیت کے بعد فلسطینی و حماس کیخلاف کارروائی ہوئی توکیا ہوگا؟ یہ سوال ہے جو امریکی صدرکی طرفسے وزیراعظم شہبازشریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت پر سامنے آئے گا، کیونکہ جنگ بندی کے بعد میں اسرائیل نے 400فلسطینیوں کو شہید کیا ببماری بھی کی تاہم امن بورڈ کے بعد ایسا کچھ ہوا تو پورا امن بورڈ ذمہ دار ہوگا۔
اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے قیام کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شرکت کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق اس بین الاقوامی امن بورڈ میں شامل ہونے کی سرکاری دعوت موصول ہوچکی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں ہمیشہ فعال اور مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کیا جاچکا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کا قیام، چارٹر اور مالی شرائط
غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کی راہ ہموار کرنا بھی اس کے اہداف میں شامل ہے۔

واشنگٹن سے خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ کے چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے خواہش مند ممالک کے لیے 1 ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
چارٹر میں واضح کیا گیا ہے کہ جو ممالک غزہ امن بورڈ میں تین سال سے زائد مدت کے لیے رکنیت چاہتے ہیں، انہیں کم از کم 1 ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دینا ہوگی۔
چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے تین سال تک خدمات انجام دے گا، تاہم بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے ہی سال میں بورڈ کے لیے 1 ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کریں گے۔
اسرائیل کا غزہ بورڈ آف پیس کو مسترد کرنا، عالمی ردعمل
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئرروبیوکے ساتھ غزہ بورڈ آف پیس کی فہرست میں شامل ہیں،ٹرمپ انتظامیہ
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، جبکہ میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
بورڈ آف پیس میں ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں، جبکہ آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام کو سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
اسی دوران غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں حماس رہنما سمیت 12 فلسطینی شہید ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Comments are closed.