کراچی کے گل پلازہ میں 23 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ بے قابو،6 افراد جاں بحق ،56 لاپتہ

کراچی کے گل پلازہ میں 23 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ بے قابو،6 افراد جاں بحق ،56 لاپتہ

فوٹو : سوشل میڈیا

 کراچی : کراچی کے گل پلازہ میں 23 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ بے قابو،6 افراد جاں بحق ،56 لاپتہ کی تلاش جاری ہے،کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازا میں رات گئے لگنے والی خوفناک آگ کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 30 افراد زخمی ہوگئے، جب کہ 56 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

 آگ رات تقریباً 10:15 بجے بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت کے باعث ریسکیو آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ آگ لگنے کے نتیجے میں عمارت کے دو حصے زمین بوس ہوگئے، جس سے جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوا۔

 آتشزدگی، ریسکیو آپریشن اور جانی نقصان

اسپتال ذرائع کے مطابق دھوئیں سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھروں کو روانہ کردیا گیا۔ دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔ مجموعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 13 برنس سینٹر، 15 ٹراما سینٹر اور 2 جناح اسپتال منتقل کیے گئے۔

چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) اور دیگر شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں حسیب، وسیم، دانیال، صادق، حمزہ، رحیم، فہد، جواد، ایان، عبداللہ، عثمان، زین، نادر اور دیگر شامل ہیں۔

 56 افراد لاپتا، ہیلپ لائن اور ڈی این اے شناخت

ڈپٹی کمشنر کو شہریوں کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی ہیں کہ 56 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق واقعے کے وقت 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے تھے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق 55 سے زائد افراد کے ورثا نے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔

سی پی ایل سی کی شناخت ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر ہیلپ ڈیسک قائم کردیا ہے۔ انچارج عامر حسن کے مطابق ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔ اب تک 40 افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

 وزیراعلیٰ سندھ، گورنر اور سیاسی قیادت کے بیانات

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل میں 26 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور 10 واٹر باؤزرز نے حصہ لیا، جبکہ پاکستان نیوی اور سول ایوی ایشن نے بھی معاونت فراہم کی۔ ان کے مطابق عمارت 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی تھی اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی۔

 فائر بریگیڈ، رینجرز اور اداروں کی مشترکہ کارروائی

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جہاں 1200 دکانیں موجود تھیں۔ فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیاں، کے ایم سی کی ہیوی مشینری، ریسکیو 1122، سندھ رینجرز اور واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز ریسکیو آپریشن میں شریک رہے۔
حکام کے مطابق کولنگ کے بعد آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

Comments are closed.