ایران پرامریکی حملے کےلئے حالات موافق نظر نہیں آرہے،پڑوسی ممالک حملے کے حامی نہیں ہیں
فوٹو : فائل
محبوب الرحمان تنولی
اسلام آباد : طاقت اوراختیار کے نشہ کی اگرچہ کوئی حد نہیں ہوتی اور امریکی صدرڈونلڈ پرمپ اسی زعم میں مبتلا ہیں لیکن پھر بھی ایران پرامریکی حملے کےلئے حالات موافق نظر نہیں آرہے،پڑوسی ممالک حملے کے حامی نہیں ہیں، ایسے میں امریکہ کا ایران پر حملہ شاید وینیز ویلا ایسے نتائج حاصل نہیں کرسکے گا۔
ایران پرحملے کےلئے امریکی صدر جوازتراش رہے ہیں،اصل مسلہ ایرانی مظاہرین کی اموات نہیں بلکہ وہ ادھورا مشن ہے جو کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں وہ اس لئے پورا نہیں کرپائے تھے کہ جواب میں ایرانی حملے اسرائیل کے اندرتباہی پھیلا رہے تھے اسی لئے امریکہ نےایران پرحملے میں اسرائیل کا ساتھ بھی دیا اورراہ فراربھی اختیار کی۔
ایران میں اب حملے کی جو تیاری ہورہی ہے اس میں بادی النظر میں رکاوٹ ایران کے پڑوسی ممالک ہیں پاکستان، افغانستان ، سعودی عرب اور قطر واضح کرچکے ہیں کہ وہ حملے کے سہولت کار بنیں گے نہ اپنی زمینی و فضائی حدود کی اجازت دیں گے، ترکمانستان کے راستے روسی ردعمل کا امکان ہےجب کہ عراق بھی امریکی موقف کا حامی نہیں ہے۔
ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں مبینہ طورپر امریکی و اسرائیلی جاسوس ان مظاہروں کو نہ صرف ہوا دے رہے ہیں بلکہ ان مظاہروں میں بھی شامل ہیں، ایران نے متعدد کو پھانسی بھی دی ہے اور تمام ترامریکی دھمکیوں کے باوجود مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے وینیزویلا کے خلاف یکطرفہ کارروائی کے بعد ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکیاں دنیا میں جنگل کے قانون کا پتہ دیتی ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بارپھر ثابت کیاہے کہ وہ امریکی خلاف ورزیوں کے سامنے بے بس ہے اور امریکی صدر دھمکا رہے ہیں کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرسکتے ہیں۔
اگردنیا فرض کرے کہ امریکہ کے اندرمظاہرے اور وہاں مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر کوئی دوسرا ملک مداخلت کی دھمکی دیتا تو امریکہ کا کیا ردعمل ہوتا؟ یقیتا وہ ایسی کسی دھمکی کو اندرونی معاملات میں مداخلت قراردیتا،مگر ٹرمپ اپنے ملک کے اندر سے انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزیوں پر اٹھنے والی آوازوں کو بھی سننے کو تیارنہیں ہیں۔
دوسری طرف قطرمیں اسرائیلی حملے اور وینیزویلا کے صدرمادورو کے اہلیہ سمیت اغوا کے بعد عرب ممالک میں یقینی طورپر یہ احساس ضرور آبھرا ہے کہ امریکہ خود نہ سہی مگر اسرائیل کے ذریعے طاقت کا کوئی مظاہرہ یہاں بھی کرسکتا ہےجس سے عرب ممالک نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
دفاعی طورپر کمزور امیر ممالک کےلئے امریکہ نے وینیز ویلا پرحملہ کرکے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، تاہم ایران پرحملے کا مقصد مظاہرین سے ہمدری نہیں ہے بلکہ ایران کی طاقت ختم کرنا ہے تاکہ وہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کےلئے مستقبل میں خطرہ ثابت نہ ہو، کیونکہ اگرمظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو وجہ مان لیا جائے تو وہ تو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش سمیت دنیا کے متعدد ممالک مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرچکے اموات بھی ہوئیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جو ایران کے خلاف آرہا ہے۔
امریکہ جنگوں کو اپنی معیشت میں بہتری کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، وینیزویلا میں عالمی قوانین کو روند کرکیا گیاحملہ اور تیل پردسترس اس کی واضح مثال ہے،عراق میں پہلے ہی وہ ایسا کرچکا ہے مگر ایران میں شاید اسے یہ ہدف حاصل کرنے میں مشکلات ہوں گی کیونکہ وہاں زمینی حقائق مختلف ہیں۔
ایران کے اندرکی صورتحال کاجائزہ لیا جائے تو وہ بھی اتنی قابل تعریف نہیں ہے، ایرانی حکمران عوامی رائے عامہ کےبرعکس اپنے کٹر فیصلوں کی وجہ سے جہاں عوام کودباو کاشکارکرتے ہیں وہاں دنیا بھر میں اپنے مخالفین کو جوازبھی فراہم کررہے ہیں،خدانخواستہ ٹرمپ کی دھمکیاں سچ ثابت ہوئیں اورامریکہ نے حملہ کردیا تو ایران کواسرائیل جنگ کے مقابلے میں زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے امریکہ ایرانی کمزوریوں پرکافی ہوم ورک کرچکا ہے۔
Comments are closed.