ایران میں احتجاجی مظاہرے 31 صوبوں تک پھیل گئے،45 اموات ،امریکی صدرکی ایک اور دھمکی
فوٹو : سوشل میڈیا
تہران،واشنگٹن : ایران میں احتجاجی مظاہرے 31 صوبوں تک پھیل گئے،45 اموات ،امریکی صدرکی ایک اور دھمکی بھی سامنے آئی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا اور انھیں قتل کیا گیا تو امریکہ ’سخت کارروائی‘ کرے گا ۔
ایران میں 13 ویں روز بھی ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، شدید معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران حالات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں، سڑکوں کی بندش، بازاروں کی ہڑتال اور انٹرنیٹ کی مکمل معطلی نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔
ایرانی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
عوامی غصہ بالخصوص ایرانی ریال کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور بے روزگاری میں اضافے کے باعث شدت اختیار کر گیا ہے،ایران حکومت ایک طرف ان مظاہروں میں بیرونی مداخلت کا بتا رہی ہے تاہم اس تحریک ختم کرنے کےلئے عوامی مطالبات پھر بھی پورے نہیں کئے جارہے۔
کئی شہروں میں پرتشدد مظاہرے،پولیس سے جھڑپیں، سڑکیں کی بند
رپورٹس کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں احتجاج بعض مقامات پر پُرتشدد رخ اختیار کر گیا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا، ٹائر جلا کر اہم شاہراہیں بند کر دیں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کے باہر شدید احتجاج کیا۔ تہران، تبریز، اصفہان، مشہد، کرمان، شیراز اور اہواز سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں۔
بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں جبکہ دکانداروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہے۔ کئی علاقوں میں براہ راست فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی، غربت اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔
رضا پہلوی کی ایرانی حکومت پر تنقید ، مظاہرین کاشکریہ

ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ملک گیر مظاہروں پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ بندش، مظاہرین پر تشدد اور عوام کی آواز دبانے کو قابلِ مذمت قرار دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں، مگر حکومت نے مواصلاتی ذرائع مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔
رضا پہلوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مغربی ممالک، بالخصوص یورپی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی کھل کر حمایت کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کر کے ایرانی عوام سے رابطہ بحال کیا جائے۔
تحریک کی شدت کم کرنےلئے انٹرنیٹ بند کیا گیا
احتجاج کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ایرانی حکام نے ملک بھر میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بندش کی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم ماضی میں بھی ایرانی حکام احتجاج کے دوران مواصلاتی نظام معطل کرتے رہے ہیں۔
انٹرنیٹ اور فون سروسز کی بندش کے باعث نہ صرف عوام کو ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ عالمی برادری تک صورتحال کی درست معلومات پہنچانا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ مواصلاتی پابندیاں اظہارِ رائے کو دبانے اور مظاہرین کی آواز کو دنیا تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش ہیں۔
یورپ کا ردعمل اورڈونلڈ ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی
ایران میں احتجاجی تحریک کے 13ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجے میں بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا اور مزید ہلاکتیں ہوئیں تو امریکہ ’سخت کارروائی‘ کرے گا۔ معروف صحافی ہیو ہیوٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ درجنوں افراد احتجاج کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں اور امریکہ ایران کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، بعض مقامات پر بھگدڑ مچنے کی اطلاعات ہیں اور اس دوران بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو واضح اور سخت پیغام دے دیا گیا ہے کہ مظاہرین پر تشدد ناقابلِ قبول ہے۔

دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے بھی ایرانی عوام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک بار پھر ایران میں عوام کی بہادری اور مزاحمت کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام عزت، آزادی اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، جو پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔
Comments are closed.