سیلابی پانی 3 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوگا،16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
فوٹو : فائل
کراچی : سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پنجاب سے آنے والا سیلابی پانی دو یا تین ستمبر کی رات کو سندھ میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت نے پیشگی انتظامات مکمل کرلیے ہیں اور عوام کو ہر تین گھنٹے بعد صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ میں اب تک 192 ریسکیو کشتیاں، 565 نجی کشتیاں اور 36 موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ متاثرین کے لیے ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔
جانوروں کے لیے بھی 300 خصوصی کیمپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم زیادہ تر متاثرہ افراد حسبِ روایت اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہونا ترجیح دیتے ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت مسلسل پانی کی سطح کی نگرانی کر رہی ہے۔ سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج پر پانی کی آمد و رفت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ممکنہ طور پر 16 لاکھ 50 ہزار افراد، 1657 دیہات، 167 یونین کونسلز اور تقریباً دو لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’فی الوقت صوبے میں نہ تو پیسوں کی کمی ہے اور نہ ہی کوئی ہنگامی صورتحال ہے، لیکن حکومت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘‘
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی تعاون کے طور پر امدادی کٹس فراہم کی جارہی ہیں۔
مزید یہ کہ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دریا کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات اور کچے کے علاقوں میں رہائش کی وجہ سے سیلابی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی شدت اور پھیلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سیلابی پانی 3 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوگا،16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
Comments are closed.