امریکی کانگریس میں پاکستان مخالف بل دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے، دفتر خارجہ

42 / 100

فائل:فوٹو
اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس میں پاکستان مخالف بل دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے۔ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں۔ یہ پابندیاں ثبوتوں کے بغیر لگائی گئی ہیں۔
ہفتہ واربریفنگ کے دوران امریکا میں پاکستان کے خلاف پیش ہونے والے بل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک فرد کی جانب سے اٹھا گیا اقدام ہے۔ یہ بل پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے۔ اْمید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے لیے اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں۔ یہ پابندیاں ثبوتوں کے بغیر لگائی گئی ہیں۔
پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں ہو سکتا۔ اس پہلے جو اسرائیل کے دورے ہوئے وہ ڈیول نیشنل تھے۔ پاکستان کے اسرائیل پر موٴقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترجمان نے کہاکہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح تحریر ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہے۔ تکنیکی طور پر کوئی پاکستانی اس پاسپورٹ پر اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی داخل ہوتا ہے تو اس کے لیے خصوصی انتظامات اس ریاست کی جانب سے کیے گئے ہوں گے۔
روس اور یوکرین کے معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سیز فائر خوش آئند ہے۔ امید کرتے ہیں کہ سیز فائر مستقل ہو جائے۔ پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ بات چیت کو فوقیت دی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ صادق خان کے دورے میں تمام پہلووٴں پر بات چیت کی گئی۔ یہ ایک جاری اور مسلسل پراسس ہے۔ صادق خان کے دورے میں افغانستان کے ساتھ جعفر ایکسپریس والا معاملہ اٹھایا گیا۔ دورے میں طوربارڈر پر تعمیرات سمیت تمام معاملات اٹھائے گئے۔ صادق خان کا دورہ افغانستان ایک اعلیٰ سطح دورہ تھا۔

Comments are closed.