یو اے ای نے 6.5 فیصد سود لگا کر پاکستان کے قرض میں 2 ماہ کی توسیع کردی
فوٹو : فائل
اسلام آباد: یو اے ای نے 6.5 فیصد سود لگا کر پاکستان کے قرض میں 2 ماہ کی توسیع کردی، یہ رضامندی پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ کی توسیع حکومتی درخواست پر پر کی گئی ہے۔
نجی ٹی جیو نیوز کے مطابق قرض ایک ماہ کی مدت ختم ہونے میں جب صرف 4 دن باقی تھے تب شرح سود کا تعین کرکے صرف 2 ماہ کیلئے مزید توسیع حاصل کی گئی اور اس کیلئے وزیر خزانہ کی بجائے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کو شش شامل تھی.
رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای نے 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کے لیے اس رقم کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کیا۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب امارات نے یہ مختصر مدتی توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی ہے، متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری کسی بھی وقت موصول ہونے کی توقع ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تیسرے جائزہ مذاکرات سے امارات کی رضامندی حاصل کرنا اہم ہے، یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں محض چار دن باقی تھے۔
یہ قرضہ 2 ماہ بعد پاکستان واپس نہیں کر سکے گا، پھر رول اوور کی درخواست کی جائے گی، اس لئے متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسلام آباد دوبارہ طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطہ کرے گا۔
واضح رہے کہ جنوری میں بھی یو اے ای نے رقم کی میعاد ختم ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی جبکہ ایک ارب کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہوگی۔
ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور وہ اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے قائمہ کمیٹی خزانہ میں دیے گئے بیانات کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کوئی خلا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔
Comments are closed.