گل پلازہ سےایک اوردردناک اپ ڈیٹ ،ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں، کل اموات 61 تک پہنچ گئیں ہیں
فوٹو : سوشل میڈیا
کراچی : کراچی کے گل پلازہ سےایک اوردردناک اپ ڈیٹ ،ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں، کل اموات 61 تک پہنچ گئیں ہیں ، پلازہ میں آگ سے تباہ ہونے والےگل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے،یہ لاشیں میزنائن فلور سے ملی ہیں ۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔
کراچی کےگل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔
کراچی گل پلازہ سانحہ،86افراداب بھی لاپتہ ہیں مرنے والوں کی تعداد30 تھی جو بڑھ گئی ہے،ملبہ سے اب بھی مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے اسی لئے سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاہم ریسکیو آپریشن سست روی سے جاری ہےجن لاشوں کی شناخت نہیں ہوپارہی ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔
کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم محدود وسائل، بھاری ملبے اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث ریسکیو آپریشن کی رفتار شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو دوپہر دو بجے کے قریب ایک اور لاش کا آدھا حصہ ملا، جس کے بعد اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو چکی ہے، جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب مزید لاشیں ملنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔
حکام کے مطابق عمارت سے مکمل لاشیں ملنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جو افراد آگ میں تین سے چار دن تک جھلستے رہے، ان کے جسمانی اعضا اب راکھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
سرچ آپریشن کے دوران اب بھی انسانی اعضا کی چھوٹی چھوٹی باقیات مل رہی ہیں، تاہم مکمل لاشیں تقریباً نہیں ملتیں۔
حکام کے مطابق آج بھی عمارت سے لاش کے مزید اعضا برآمد ہوئے ہیں۔ریسکیو ٹیمیں متاثرہ عمارت کے ملبے میں انتہائی محتاط انداز میں کام کر رہی ہیں تاکہ جتنی بھی باقیات ممکن ہو، انہیں نکالا جا سکے۔
لاشوں کی شناخت، ڈی این اے نمونے، لواحقین کا درد اور سوالات
حکام کے مطابق سانحے میں جاں بحق مزید تین افراد کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد شناخت ہونے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جن تین افراد کی شناخت ہوئی ہے ان کے نام شہروز، محمد رضوان اور مریم ہیں۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تینوں میتیں اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 17 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں جنہیں ایدھی سرد خانے میں رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی اور تنویر شامل ہیں جن کی شناخت پہلے ہی ہو چکی تھی۔
باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 50 خاندانوں کی جانب سے ڈی این اے نمونے جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد مزید شناخت ممکن ہو سکے گی۔
حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں عمارت کے اندر داخل ہو چکی ہیں اور جہاں تک ممکن ہو رہا ہے سرچنگ کی جا رہی ہے، تاہم جو حصے عمارت کے گرنے سے دب چکے ہیں وہاں تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔
فائر بریگیڈ، میئر کراچی، جے ڈی سی کے تحفظات اور سیاسی تنازع
فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کولنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور دھواں ختم ہو چکا ہے۔ان کے مطابق جتنا ایریا کھلا اور محفوظ تھا اسے سرچ کر لیا گیا ہے اور وہاں کسی شخص یا لاش کی موجودگی نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ ریمپا پلازہ کے ساتھ متصل دبے ہوئے حصے کی سرچنگ صبح سورج کی روشنی میں مختلف مراحل میں کی جائے گی کیونکہ رات کے وقت وہاں کام کرنا انتہائی خطرناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیسمنٹ یا دیگر حصوں میں گرم پانی موجود نہیں جس سے آگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے آج کی رپورٹ کے مطابق کہا کہ فائر بریگیڈ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور آگ سے بچاؤ کی تربیت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ عمارتوں میں موثر فائر فائٹنگ سسٹم ناگزیر ہے۔
دوسری جانب جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے ریسکیو آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 85 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاپتا افراد کی تلاش تسلی بخش نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمارت میں متعدد دروازے موجود تھے تو لوگ چھت تک کیوں نہ پہنچ سکے۔
ان کا مطالبہ تھا کہ ہر مرنے والے کی الگ ایف آئی آر درج کی جائے اور لاشوں کی وصولی و شناخت کے لیے واضح نظام بنایا جائے۔
لاپتا افراد کے لواحقین کا درد بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک لاپتا نوجوان کے والد نے روتے ہوئے بتایا کہ تین دن سے گھر میں کسی نے کھانا تک نہیں کھایا۔
ان کے مطابق بیٹے کی جیکٹ، گلاس اور چپل دیکھ کر گھر والے رو پڑتے ہیں، اور انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ خدارا کچھ کریں۔
سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی ارکان میں تلاخ کلامی
آج کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی بیسمنٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جہاں تمام دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ کل دو بج کر پندرہ منٹ پر دوبارہ آگ بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بیسمنٹ کو راکھ بنا دیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور رات گئے دوبارہ پہنچ کر ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔
ان کے مطابق 70 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے جبکہ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایس بی سی اے اور دیگر ادارے جیک سسٹم نصب کریں گے کیونکہ عمارت میں تکنیکی نقائص سامنے آئے ہیں۔
ادھر پولیس نے ملبے سے نکلنے والی نقدی چرانے کی کوشش کرنے والے ایک مبینہ مزدور کو حراست میں لے لیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا، جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایم کیو ایم رہنماؤں فاروق ستار اور امین الحق نے واقعے کو مجرمانہ غفلت قرار دے کر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شہلا رضا اور عبدالقادر پٹیل نے ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی۔
Comments are closed.