کیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے؟ سابق امریکی صدارتی مشیر

کیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے؟ سابق امریکی صدارتی مشیر

فوٹو : فائل

اسلام آباد: امریکہ کے سابق نائب مشیر برائے قومی سلامتی بین روڈز نے کہا ہے ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے؟ سابق امریکی صدارتی مشیر جو کہ اوباما دور کے سابق نائب مشیر برائے قومی سلامتی بین روڈز ہیں نےیہ سوال اٹھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ  ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اندازِ حکمرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فیصلے ایسے کیے جا رہے ہیں جیسے ایک ہی شخص سب کچھ طے کر رہا ہو۔

برطانوی نشریاتی ادارے BBC کے ریڈیو 4 پروگرام “ٹوڈے” میں گفتگو کرتے ہوئے بین روڈز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اپنے سیاسی اور عسکری مشیروں پر انحصار کرتے دکھائی نہیں دیتے اور وہ روایتی پالیسی سازی کے طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلے کر رہے ہیں۔

معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا، ٹرمپ

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بیانات، خاص طور پر ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد، یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ امریکی قیادت جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی طرف جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا امریکی فوج ایسے احکامات کو مسترد کرنے کی پوزیشن میں ہوگی یا نہیں۔

بین روڈز کے مطابق کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حتمی حل مذاکرات ہی کے ذریعے ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ حملوں سے ایران کو نقصان پہنچا ہے، تاہم کچھ پہلوؤں میں وہ مزید مضبوط بھی ہوا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کر کے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان سے امریکا کی داخلی پالیسی سازی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر نئے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔

Comments are closed.