کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی 22ویں بین الاقوامی آئی ٹی کانفرنس

فوٹو : پی آر 

اسلام آباد : کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 22ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے فرنٹیئرز آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (FIT 2025) پیر کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کو پاکستان میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) تحقیق کے ممتاز ترین فورمز میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں دنیا بھر سے محققین، سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس کا مرکزی موضوع ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت تھا، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ FIT 2025 کو 32 ممالک سے مجموعی

طور پر 627 تحقیقی مقالے موصول ہوئے، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران منعقد ہونے والی FIT کانفرنسز کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔ محتاط اور جامع جائزے کے بعد 99 تحقیقی مقالے منظور کیے گئے، جنہیں 11 تکنیکی شعبہ جات اور 19 سائنسی سیشنز میں پیش کیا گیا۔ اس طرح کانفرنس کی مجموعی قبولیت کی شرح تقریباً 15 فیصد رہی۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ایڈیشنل سیکریٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی جناب رضوان احمد شیخ نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کو مبارکباد پیش کی اور FIT کو پاکستان کے معتبر ترین آئی سی ٹی تحقیقی فورمز میں سے ایک قرار دیا۔

انہوں نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتے ہوئے تحقیق، صنعت اور عوامی پالیسی کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عملی شکل دے کر اسٹارٹ اپس، پیٹنٹس اور سماجی و معاشی اثرات کے حامل حل میں تبدیل کیا جا سکے۔

ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے اپنے خطاب میں ماہرین اور محققین پر زور دیا کہ وہ کوانٹم ٹیکنالوجیز میں تحقیق سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جدت اور انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کی پہلی جامعہ ہوگی جو اپنے طلبہ کو انڈسٹری 5.0 کے تقاضوں کے مطابق 6C ٹول کِٹ کے ذریعے تیار کرے گی۔

اس فریم ورک کے تحت طلبہ کو کوڈنگ، سائبر سکیورٹی، کلاوڈ کمپیوٹنگ، کو-انٹیلیجنس، تخلیقی اور ابلاغی مہارتوں کی عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے اسٹارٹ اپس اور یونیورسٹی میں ہونے والے تحقیقی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

تقریب سے چینی سفارت خانے کے ثقافتی مشیر مسٹر چن پینگ اور ہواوے پاکستان کے وائس سی ای او اور چیف گیسٹ مس ژان ہونگیان نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی و صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

وزیر توانائی اویس لغاری کا کلین ٹیک کے فروغ اور قابل تجدید توانائی میں تعاون بڑھانے پر زور

تقریب کے اختتام پر فیکلٹی آف انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شاہد خٹک نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سہیل اصغر نے کانفرنس رپورٹ پیش کی۔ FIT پروگرام چیئر پروفیسر ڈاکٹر مجید اقبال نے مدعو مقررین کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی تحقیقی کاوشوں سے کانفرنس کو علمی اعتبار سے بامعنی اور مؤثر بنایا۔ تکنیکی پروگرام چیئر پروفیسر ڈاکٹر منظور الہی تمیمی نے آئی ای ای ای (IEEE)، نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) اور کامسٹیک سیکرٹریٹ کی سرپرستی پر خصوصی اظہارِ تشکر کیا۔

اس سے قبل سر سید کیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے چانسلر پروفیسر شعیب اے خان نے "AI to Agentic AI: How to Be Future Ready” کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا، جبکہ آئرلینڈ کی السٹر یونیورسٹی سے پروفیسر کرس نوگن نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی IoT سلوشنز پر کلیدی خطاب کیا اور کانفرنس کے فکری و تحقیقی رخ کا تعین کیا۔

FIT 2025 میں امریکہ، برطانیہ، چین، جاپان، آئرلینڈ، فرانس، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے مختلف سیشنز میں 6G نیٹ ورکس، اسمارٹ سٹیز، مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کے حل اور پائیدار کمپیوٹنگ جیسے جدید موضوعات زیرِ بحث آئے۔

FIT 2025 تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراکِ عمل کی ایک بہترین مثال ثابت ہوئی، جس نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے فروغ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اور اہم کردار کو نمایاں کیا۔ کانفرنس کا اختتام بہترین تحقیقی مقالہ جات کے لیے ایوارڈز کی تقسیم کے ساتھ ہوا، جس کے ذریعے نمایاں تحقیقی خدمات کو سراہا گیا۔

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی 22ویں بین الاقوامی آئی ٹی کانفرنس

Comments are closed.