چین میں طویل ترین بہار میلہ تعطیلات،نوجوان مسافروں نے چھوٹے شہروں کا رخ کرلیا

تہوار کے دوران گوانگ ڈونگ کے چاؤشان علاقے میں ہوٹل بکنگ میں سال بہ سال 70 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا

فوٹو : سنہوا

بیجنگ : چین میں نو روزہ بہار میلہ تعطیلات، جو ملکی تاریخ کی طویل ترین تعطیلات میں شمار کی جا رہی ہیں، صرف سفری دباؤ بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے چینی سیاحت کے رجحانات میں ایک نمایاں تبدیلی کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔ اس بار نوجوان مسافر روایتی طور پر آبائی شہروں میں خاندانی ملاپ یا مشہور اور پرہجوم سیاحتی مقامات کے بجائے چھوٹے شہروں اور قصبوں کا انتخاب کر رہے ہیں، جہاں تہوار کی روایات زیادہ خالص اور مقامی زندگی زیادہ حقیقی محسوس ہوتی ہے۔

یہ رجحان خاص طور پر 1980 اور 1990 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ٹریول پلیٹ فارم Tuniu کے مطابق، اس وقت یہ گروپ مجموعی مسافروں کا 64 فیصد بنتا ہے، جو انہیں نہ صرف سب سے بڑا خرچ کرنے والا طبقہ بناتا ہے بلکہ خاندانی سفر کی منصوبہ بندی میں بھی مرکزی کردار ادا کرنے والا گروہ قرار دیتا ہے۔

 لوک روایات اور ثقافتی ورثہ نوجوانوں کی پہلی ترجیح

آن لائن ٹریول پلیٹ فارم مافینگوو کے منزل تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر سن یونلی کے مطابق، چینی نئے سال کے دوران تہوار کا ماحول اب ملکی سیاحت کا سب سے بڑا محرک بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامات جہاں لوک روایات، ثقافتی ورثہ اور مقامی تہذیب نمایاں ہو، نوجوان مسافروں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں ایک ساتھ ثقافتی تجربہ اور تہوار کی حقیقی فضا فراہم کرتے ہیں۔

اس رجحان کی نمایاں مثال فوزو ہے، جو پہلی بار سپرنگ فیسٹیول کے دوران ٹریول پلیٹ فارم قنار پر ہوٹل بکنگ کے اعتبار سے ٹاپ فائیو شہروں میں شامل ہوا ہے۔ شہر میں ہوٹل ریزرویشنز میں 80 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں کی مشہور لوک روایت "یوشین” (دیوتاؤں کی پریڈ) سیاحوں کو قدیم تہذیبی رسومات کی جیتی جاگتی جھلک دکھاتی ہے۔

 چھوٹے شہروں کی بڑی کشش، سیاحت میں غیر معمولی اضافہ

اسی طرح، موسم بہار کے تہوار کے دوران گوانگ ڈونگ کے چاؤشان علاقے میں ہوٹل بکنگ میں سال بہ سال 70 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ خطے کا مشہور شہر شانتو، جسے "تہواروں کا چھوٹا شہر” کہا جاتا ہے، اپنی رنگا رنگ لوک روایات، منفرد ینگ ڈانس، مشہور چائے کی ثقافت اور مقامی بیف ڈشز کی وجہ سے اس سال ایک حیران کن سیاحتی مرکز بن کر ابھرا ہے۔

مشرقی چین کے صوبہ زی جیانگ کے جیاندے کے قدیم قصبے شوچانگ میں شیر رقص کرنے والے سیاحوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

شنگھائی سے تعلق رکھنے والی 90 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والی لیکسی کے لیے یہ تبدیلی ذاتی نوعیت رکھتی ہے۔ وہ اس بہار میلے پر شنگھائی کی سرد اور خاموش فضا چھوڑ کر جنوبی ساحلی علاقوں میں فیملی روڈ ٹرپ پر نکل رہی ہیں، جہاں وہ شانتو، چاؤزو، کوانزو اور فوزو کا دورہ کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سفر میں "آدھی دنیاوی ہلچل اور آدھی دنیاوی سکون” کو محسوس کرنا چاہتی ہیں۔

سیاحتی ماہرین کے مطابق اس رجحان نے پورے ملک میں ثقافتی ورثے کی سیاحت کو نئی جان بخشی ہے۔ آن لائن ٹریول سروس Fliggy کے مطابق، لالٹین شوز، مندر میلوں اور لوک تقریبات کی تلاش میں 117 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ عجائب گھروں، دستکاری ورکشاپس اور لائیو پرفارمنس جیسے غیر محسوس ثقافتی ورثے کے تجربات میں دلچسپی 60 فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔

مقامی حکومتوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گوانگ ڈونگ، فوجیان اور سیچوان میں مقامی رسومات کو فروغ دیا ہے۔ سیچوان میں زیگونگ لالٹین فیسٹیول، سانکسنگدوئی کی تقریبات اور ماؤنٹ ایمی کے گرم چشمے چینگڈو کو اندرونِ ملک پروازوں کی ٹاپ چار منزلوں میں لے آئے ہیں۔ لالٹین فیسٹیول کے قریب ہوٹل تقریباً مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں اور بعض مقامات پر قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں۔

سیاحتی ماہرین کے مطابق ایک مستند چینی نیا سال منانے کا رجحان اب غیر ملکی سیاحوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔ فلیگی کے اعداد و شمار کے مطابق تعطیلات کے دوران اندرون ملک پروازوں کے لیے غیر ملکی بکنگ میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ شنگھائی، بیجنگ، گوانگ زو اور چینگڈو سرفہرست مقامات بنے ہوئے ہیں۔

چین میں طویل ترین بہار میلہ تعطیلات،نوجوان مسافروں نے چھوٹے شہروں کا رخ کرلیا

Comments are closed.