چین-لاؤس ریلوے نے ریکارڈ ترقی کر لی، علاقائی رابطے اور تجارت کو نئی رفتار
فوٹو : شہنوا
کنمنگ : چائنا ریلوے کنمنگ گروپ کمپنی لمیٹڈ نے کہا ہے کہ چین-لاؤس ریلوے نے اپنے آغاز کے بعد سے مسافروں اور مال برداری دونوں شعبوں میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے، جو نہ صرف چین اور لاؤس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ پورے خطے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔
چینی خبر رساں ادارے شہنوا کے مطابق کمپنی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2 فروری تک چین-لاؤس ریلوے پر مجموعی طور پر 90 ہزار مسافر ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں، جن کے ذریعے 66.12 ملین مسافروں نے سفر کیا۔
ان میں سے 53.95 ملین مسافر چین کے اندرونی سیکشن میں سفر کرنے والے تھے، جبکہ 12.17 ملین مسافروں نے سرحد پار سفر کیا، جو اس ریلوے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاحت، تعلیم اور کاروبار کے لیے سرحد پار سہولت
چائنا ریلوے کنمنگ گروپ کے مطابق چین-لاؤس ریلوے نے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، تعلیمی روابط اور تجارتی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر آسان بنایا ہے۔ خاص طور پر سرحد پار سفر میں تیزی آنے سے طلبہ، تاجروں اور سیاحوں کے لیے آمد و رفت زیادہ سہل، محفوظ اور کم وقت میں ممکن ہو گئی ہے۔
موسمِ سرما اور بہار کے سیاحتی سیزن کے دوران یہ ریلوے کوریڈور اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے آپریٹر نے نقل و حمل کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت روزانہ 70 سے زائد مسافر ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جو یومیہ 60 ہزار سے زیادہ مسافروں کے سفر کو ممکن بنا رہی ہیں۔
ان میں چار سرحد پار مسافر ٹرینیں بھی شامل ہیں، جو روزانہ 1,000 سے زائد مسافروں کو چین اور لاؤس کے درمیان سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف سفری دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی سیاحت کو بھی فروغ ملا ہے۔
تجارت اور لاجسٹکس میں تاریخی کامیابی
مسافر سروس کے ساتھ ساتھ چین-لاؤس ریلوے نے مال برداری کے شعبے میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک اس ریلوے کے ذریعے 76.8 ملین ٹن کارگو منتقل کیا جا چکا ہے، جس میں 17 ملین ٹن سرحد پار مال برداری شامل ہے۔
یہ ریلوے نیٹ ورک اب چین کے 31 صوبوں، خود مختار علاقوں اور میونسپلٹیوں تک پھیل چکا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی خدمات 19 ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہیں۔ ان میں لاؤس کے علاوہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور اور ویتنام شامل ہیں۔ سرحد پار منتقل ہونے والی اشیاء کی اقسام بھی تیزی سے بڑھ کر 3,800 سے زائد کیٹیگریز تک پہنچ گئی ہیں، جن میں زرعی مصنوعات، صنعتی خام مال، الیکٹرانکس اور صارف اشیاء شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ریلوے منصوبہ خطے میں لاجسٹکس لاگت کم کرنے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور علاقائی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔
چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے دارالحکومت کنمنگ سے لاؤس کے دارالحکومت وینٹیانے تک 1,035 کلومیٹر طویل چین-لاؤس ریلوے نے 3 دسمبر 2021 کو باضابطہ طور پر کام شروع کیا تھا۔ بڑھتی ہوئی سرحد پار سفری طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 اپریل کو کنمنگ اور وینٹیانے کے درمیان بین الاقوامی مسافر ٹرین سروس کا آغاز کیا گیا، جسے مسافروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹرینوں کی تعداد، روٹس اور سہولیات میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان رابطے اور اقتصادی انضمام کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
چین-لاؤس ریلوے نے ریکارڈ ترقی کر لی، علاقائی رابطے اور تجارت کو نئی رفتار
Comments are closed.