چینی صدر سے ترکمانستان کے قومی رہنماگربنگولی بردی محمدوف کی ملاقات،تجارت بڑھانے پر اتفاق
فوٹو : شنہوا
بیجنگ: شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور ترکمانستان کو قدرتی گیس سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہیے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کو نئی سطح تک لے جانا ہوگا۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نے ترکمانستان کے قومی رہنما اور ہالک مصلحاتی کے چیئرمین گربنگولی بردی محمدوف سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو توانائی کے ساتھ ساتھ غیر وسائل کے شعبوں جیسے کنیکٹیویٹی، زراعت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور صاف توانائی میں بھی تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے حالیہ "دو سیشنز” کے انعقاد اور 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ چین کی سوشلسٹ جدیدیت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور ترکمانستان کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کا بنیادی ستون باہمی تعاون ہے، اور چین ہر حال میں ترکمانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت تعاون کو فروغ دینے، ثقافتی مراکز اور روایتی چینی طب کے منصوبوں کو تیز کرنے پر بھی زور دیا، جبکہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو ناگزیر قرار دیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور ترکمانستان کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا اور حقیقی کثیرالجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔
دوسری جانب گربنگولی بردی محمدوف نے چین کے "دو سیشنز” کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چین کی ترقی دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بردی محمدوف نے "ایک چین” پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے توانائی، تجارت، رابطے اور دیگر شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ترکمانستان کی مستقل غیر جانبدار حیثیت کی حمایت پر چین کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
چینی صدر سے ترکمانستان کے قومی رہنماگربنگولی بردی محمدوف کی ملاقات،تجارت بڑھانے پر اتفاق
Comments are closed.