پاکستان نے بڑے بول میں پھنسے ٹرمپ کو مشکل سے نکال لیا، عارضی جنگ بندی، مزاکرات بحال

فوٹو : فائل

اسلام آباد: پاکستان نے بڑے بول میں پھنسے ٹرمپ کو مشکل سے نکال لیا، عارضی جنگ بندی، مزاکرات بحال، وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوری طور پر 2 ہفتے کی جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے اب فریقین کے درمیان 10 نکاتی ایجنڈے پر 10 اپریل کو اسلام آباد میں مزاکرات ہوں گے.

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، جب کہ ایران نے بھی مزاکرات پر آمادگی کی تصدیق کی ہے.

وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے سوشل میڈیا پر بیان میں ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی جب کہ بعد اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں، دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں.

انھوں نے کہا کہ تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے۔‘

ایران امریکہ کے بعد اسرائیل کا بھی جنگ بندی پر اتفاق 

دوسری جانب ایرانی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 40 دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے، اور جنگ کے بیشتر اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق اب جبکہ ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہے، اور امریکہ اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کر چکا ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات جمعے کے روز اسلام آباد میں ہوں گے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی سطح پر بھی مضبوط کیا جا سکے۔

بیان کے مطابق یہ مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15 دن جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے، ایران نے دشمن کی تمام تجاویز مسترد کرتے ہوئے اپنا 10 نکاتی منصوبہ امریکہ کو پاکستان کے ذریعے پیش کیا ہے.

دس نکاتی منصوبہ میں آبنائے ہرمز سے کنٹرولڈ گزرگاہ، خطے میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا، ایران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ان تمام امور کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے توثیق شامل ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ ان اصولی نکات کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے۔ تاہم بیان میں زور دیا گیا کہ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں، اور جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب 10 نکاتی منصوبے کی تمام تفصیلات مذاکرات میں طے پا جائیں۔

ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے بارے میں مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا، مخصوص شرائط کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی قائم کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دو ہفتے کی مدت میں معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی، ایران کی طرف سے آنے والے لمحات میں مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی جانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرلیا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی جنگ بندی فیصلہ سے اتفاق کیا ہے۔

Comments are closed.