پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے، وائٹ ہاؤس
فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے، وائٹ ہاؤس میں اپنی معمول کی بریفنگ میں انھوں نے ایران کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔
کیرولین لیوٹ سے پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا جس کے بارے میں
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو، کسی بھی قیاس آرائی کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے.
ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ چونکہ امریکی اتحادی جنگ میں شامل نہیں ہو رہے، تو کیا ایران میں زمینی فوج بھیجنا واحد آپشن رہ گیا ہے؟ تاہم لیوٹ نے اس سوال پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ اب بھی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت‘ میں مصروف ہیں، حالانکہ تہران نے امریکی امن منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ ’قیاس آرائی‘ قرار دیا ہے، اگرچہ لیوٹ نے اعتراف کیا کہ اس میں کچھ سچائی کے عناصر موجود ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں پر عوامی شکایات کے جواب میں لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ جنگ کے دوران قیمتیں جتنا ممکن ہو کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران میں امریکی زمینی فوج (’بوٹس آن دی گراؤنڈ‘) کے امکان پر لیوٹ نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ ایسی کارروائی کے لیے کانگریس کی باضابطہ منظوری ضروری نہیں۔
لیوٹ سے پریس بریفنگ میں پوچھا گیا کہ کیا امریکہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کی حمایت کر رہا ہے، اور کیا صدر ٹرمپ جنوبی لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر تشویش رکھتے ہیں۔
لیوٹ نے کہا کہ وہ امریکی حمایت پر تبصرہ نہیں کر سکتیں، لیکن صدر کو بے گھر ہونے والوں کی صورتحال پر ’یقیناً تشویش‘ ہے، اسی لیے وہ ایران اور اس کے اتحادیوں جیسے حزب اللہ کے خطرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
Comments are closed.