ٹرمپ نے انڈین طیارے گراتے گراتے ٹیرف گرا دیا، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے

فوٹو : سوشل میڈیا 

اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین طیارے گراتے گراتے ٹیرف گرا دیا، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے، امریکہ نے انڈیا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس اہم فیصلے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان باقاعدہ تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی ابتدائی سوشل میڈیا پوسٹ میں تجارتی معاہدے کی تفصیلات کا ذکر موجود نہیں تھا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تفصیلی پوسٹ میں ٹیرف میں کمی اور تجارتی سمجھوتے سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور انڈیا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت باہمی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی دوران انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ صدر ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو ایک قریبی دوست سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ تجارتی معاہدے کی خبر پر بے حد پُرجوش ہیں اور امریکہ و انڈیا کے تعلقات میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔

پیر کی شب دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کیے گئے یہ اعلانات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں کئی نشیب و فراز دیکھنے میں آئے۔

اسی تناظر میں امریکہ نے روس سے انڈیا کی تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، جس کے بعد مجموعی ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ آج صبح ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے گفتگو ہوئی، جسے انہوں نے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مودی ان کے بہترین دوستوں میں سے ایک اور اپنے ملک کے طاقتور اور قابل احترام رہنما ہیں۔

ٹرمپ نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور توانائی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ان کے بقول وزیر اعظم مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے تیل خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے جہاں ہر ہفتے ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی دوستی، احترام اور درخواست پر دونوں ممالک نے فوری طور پر تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا، جس کے تحت امریکہ نے باہمی ٹیرف کو 18 فیصد تک کم کر دیا ہے۔

ان کے مطابق انڈیا بھی امریکہ کے ساتھ اپنی ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے کی جانب پیش رفت کرے گا، جبکہ وزیر اعظم مودی نے ’بائے امریکن‘ پالیسی کے تحت امریکہ سے مزید مصنوعات خریدنے کا عہد کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انڈیا امریکہ سے توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر مصنوعات کی 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خریداری کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات آئندہ دنوں میں مزید مضبوط ہوں گے اور وہ اور وزیر اعظم مودی وہ رہنما ہیں جو عملی نتائج حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ سے گفتگو پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر امریکی ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے انڈیا کے 1.4 ارب عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں اور سب سے بڑی جمہوریتیں مل کر کام کرتی ہیں تو اس سے عوام کو فائدہ پہنچتا ہے اور باہمی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور مستقبل میں اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہے۔

Comments are closed.