ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کا رابطہ، آبنائے ہرمز پر مشاورت، برطانیہ جنگ میں کودنے کو تیار
فوٹو : فائل
اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کا رابطہ، آبنائے ہرمز پر مشاورت، برطانیہ جنگ میں کودنے کو تیار ہے اہم اجلاس طلب کر لیا، ٹیلی فونک رابطہ میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
اس حوالے سے ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خصوصاً عالمی بحری تجارت کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بات کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔
ترجمان ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
برطانیہ کا جنگ میں شمولیت پر فیصلہ کیلئے اجلاس طلب
برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے آج کوبرا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کو وارننگ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کا اعلان کردیا، جاری کردہ بیان میں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو آبنائے ہرمز مکمل بند کردیں گے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو امریکی حصص والی کمپنیوں اور اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، اگر دشمن ہمارے پاور پلانٹس کو نقصان پہنچاتا ہے تو ہم اپنے ملک اور عوام کے مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز بند کردی ہے۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران جلد آبنائے ہرمز کو کھول دے بصورت دیگر ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا
آبنائے ہرمز ہمارے دشمنوں کے علاوہ سب کیلئے کُھلا ہے ،ایرانی صدر
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز ’ایرانی سرزمین پر جارحیت ہماری سرزمین کی خلاف ورزی‘ کرنے والوں کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے۔
ایرانی صدر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ وضاحت کی، پیزشکیان نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کو نقشے سے مٹانے کا فریب ’مایوسی‘ کی علامت ہیں۔
ان کے مطابق ’ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم ایک تاریخ ساز قوم کی مرضی کے مقابلے میں مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
صدر نے اپنے بیانات کے مطابق، ایران کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
Comments are closed.