فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن : وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور کنٹرول عملاً سنبھالنے کےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کو امریکہ ہی چلائے گا، وہاں نظم و نسق قائم کیا جا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نےوینیزویلا کی تازہ ترین صورتحال پر ایک ہنگامی اور غیر معمولی پریس کانفرنس کی ہے.
امریکی صدر نےدعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینیزویلا میں ایک بڑا اور کامیاب فوجی آپریشن انجام دیا ہے، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ملک میں ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت نظم و نسق قائم کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وینیزویلا کو درست طریقے سے چلانے کے لیے امریکی فوجی موجودگی ضروری ہوئی تو امریکہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر پہلے سے موجود وینیزویلا کی فوج امریکی افواج کے لیے کسی خوف یا رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی.
امریکی فوجی کارروائی اور مادورو کی گرفتاری
صدر ٹرمپ کے مطابق گزشتہ رات امریکی فوج نے ایک بڑا آپریشن کیا، جو براہِ راست ان کی نگرانی میں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں ایک بھی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فوجی سازوسامان ضائع ہوا، جو امریکی افواج کی غیر معمولی مہارت اور تیاری کا ثبوت ہے۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کو ’’ناقابلِ یقین رفتار، طاقت، درستگی اور مہارت‘‘ پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجوؤں نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر انجام دی۔
انہوں نے کہا کہ وینیزویلا کی افواج امریکی کارروائی کے لیے پہلے سے تیار تھیں اور بحری جہاز بھی تعینات کیے گئے تھے، تاہم امریکی فوجی آپریشن کے دوران وہ مکمل طور پر ناکارہ ثابت ہو گئیں۔
وینیزویلا کو کون چلائے گا؟ ٹرمپ کا چونکا دینے والا جواب
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وینیزویلا کو درست اور مؤثر طریقے سے چلایا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وینیزویلا کا نظم و نسق کس کے ہاتھ میں ہوگا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال کچھ افراد کو نامزد کیا جا رہا ہے اور جلد ان کے نام سامنے لائے جائیں گے۔

مزید سوال پر ٹرمپ نے اپنے پیچھے کھڑے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ عرصے کے لیے یہی لوگ وینیزویلا کے معاملات سنبھالیں گے۔‘‘
امریکی صدر نے امریکہ اور وینیزویلا کے درمیان ایک نئی ’’شراکت داری‘‘ کا اعلان بھی کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد وینیزویلا کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ میں مقیم وینیزویلا کے شہری اس پیش رفت پر انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تیل، منشیات کے الزامات اور دوسرے حملے کا انتباہ
صدر ٹرمپ نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’’غیر قانونی آمر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ میں بھاری مقدار میں مہلک منشیات اسمگل کرنے کے ذمہ دار ہیں اور بدنام زمانہ منشیات نیٹ ورک ’’کارٹیل دے لوس سولیس‘‘ کے سربراہ ہیں۔ مادورو ماضی میں ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک جہاز کے ذریعے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں جلد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں نیویارک یا میامی میں قانونی کارروائی کے لیے پیش کیا جائے۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق مادورو کو لے جانے والا امریکی فوجی طیارہ نیویارک کے سٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا، جس کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ وینیزویلا پر دوسرا اور کہیں بڑا فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم حالیہ کارروائی کی کامیابی کے بعد غالب امکان یہی ہے کہ دوسری لہر کی ضرورت پیش نہ آئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق تیل کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینیزویلا کا تیل کا کاروبار ناکام ہو چکا ہے اور بڑی امریکی کمپنیاں جلد وہاں جا کر تیل کے انفراسٹرکچر کو درست کریں گی تاکہ ملک کے لیے آمدن کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکے.
فوجی کارروائی کو ’’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘‘ کا نام دیا گیا
بعد ازاں پریس کانفرنس میں جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس فوجی کارروائی کو ’’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘‘ کا نام دیا گیا، جس میں بری، بحری، فضائی افواج، میرینز، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کی تیاری میں مہینوں لگے اور مادورو کی رہائش حتیٰ کہ خوراک تک کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
Comments are closed.