وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات، سیکیورٹی اوردہشت گردی کے خاتمے پرگفتگو

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات، سیکیورٹی اوردہشت گردی کے خاتمے پرگفتگو

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان کےوزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، وفاقی و صوبائی تعاون اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مل کر کام کرتی رہیں گی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بااختیار ہے، لہٰذا صحت اور تعلیم کے شعبوں میں صوبے کے عوام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیشہ سے خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے کوشاں رہی ہے اور آئندہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے صوبے کے عوام کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور صوبے کی ترقی قومی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

وفاق و صوبے کے تعاون، وادی تیراہ آپریشن، واجبات اور 8 فروری کے ممکنہ احتجاج پر بھی بات چیت

ملاقات میں خیبر پختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے، جبکہ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل سے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال زیرِ بحث آئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی سے متعلق تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی، 8 فروری کے ممکنہ احتجاج، وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور مقامی آبادی کی نقل مکانی کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

ملاقات میں وفاقی حکومت کی جانب سے امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم بھی موجود تھے۔

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات، سیکیورٹی اوردہشت گردی کے خاتمے پرگفتگو

Comments are closed.