نیتن یاہو اگر زندہ ہے تو اُسے تلاش کرکے قتل کردیں گے، ایرانی پاسداران

فوٹو : فائل 

اسلام آباد : اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اگر زندہ ہے تو اُسے تلاش کرکے قتل کردیں گے، ایرانی پاسداران کی طرف سے یہ تازہ بیان سامنے آیا ہے یہ بیان اس خبر کا ردعمل ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نیتن کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے. 

اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو زندہ ہیں تو ان کا پیچھا کر کے انہیں قتل کر دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کے حوالے سے جاری بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کو ’’بچوں کا قاتل‘‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے انجام کے بارے میں واضح معلومات موجود نہیں ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ نیتن یاہو اپنے خاندان کے ساتھ مارے گئے ہوں یا پھر مقبوضہ علاقوں سے فرار ہو چکے ہوں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر وہ زندہ ہیں تو ایران انہیں تلاش کر کے انجام تک پہنچائے گا۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ میں ایران کے سفارت خانے نے بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ نیتن یاہو زندہ ہیں یا مردہ، میناب کی ایک چھوٹی بچی کا ایک بال بھی نیتن یاہو کی پوری زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آئے کہ نیتن یاہو کی ایک حالیہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور وہ حقیقت میں زندہ نہیں ہیں۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ان تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو خیریت سے ہیں اور ان کی موت سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور جعلی ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 13 مارچ کو نیتن یاہو کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی ویڈیو حقیقی ہے جس میں وہ ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔

ادھر امریکی قدامت پسند سیاسی تجزیہ کار Candace Owens نے بھی اس معاملے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے نیتن یاہو کی صحت کے حوالے سے کچھ معلومات چھپائی جا رہی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کو اس معاملے پر واضح مؤقف دینا چاہیے کیونکہ خاموشی مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

Comments are closed.