لبنان سمیت ایران کا حمایت یافتہ پورا مزاحمتی محور جنگ بندی معاہدہ کا حصہ ہے۔‘ ایران
فوٹو : فائل
اسلام آباد: ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’لبنان سمیت ایران کا حمایت یافتہ پورا مزاحمتی محور جنگ بندی معاہدہ کا حصہ ہے۔‘ ایران کا لبنان اور اتحادی گروپ بارے دو ٹوک موقف.
ایرانی مزاکراتی ٹیم کے سربراہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کے دوران ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کا یہ پہلا نکتہ ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر دو ٹوک انداز میں لبنان کے معاملے کو اُجاگر کیا، لہذا اس معاملے پر کسی عذر یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی بھاری قیمت ہے اور اس کا سخت ردعمل ہو سکتا ہے۔ لہذا اس آگ کو بھڑکنے سے فوری طور پر روکا جائے۔
اسی طرح ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے بھی لبنان پر اسرائیل کے حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدے کے عزم کی کمی کا ’خطرناک اشارہ‘ ہے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ اس نے لبنان پر 100 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ حملے جاری رکھے گا۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی صدرمسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ حملوں کا تسلسل مذاکرات کو ’بے معنی‘ بنا دے گا اور خبردار کیا ہے کہ ایران کے ہاتھ ’ٹریگر‘ پر رہیں گے.
Comments are closed.