قومی اسمبلی، بانی پی ٹی آئی سے 850 ملاقاتیں،سیاست اڈیالہ جیل تک محدود ہو گئی،حکومت

قومی اسمبلی، بانی پی ٹی آئی سے 850 ملاقاتیں،سیاست اڈیالہ جیل تک محدود ہو گئی،حکومت

فوٹو : فائل

اسلام آباد : قومی اسمبلی، بانی پی ٹی آئی سے 850 ملاقاتیں،سیاست اڈیالہ جیل تک محدود ہو گئی،حکومت کی طرف سے کہا گیاہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی مسلسل خاموشی سوالیہ نشانہ ہے پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزرا نے نکتہ اعتراض پر جوابات دیئے ہیں۔

 قومی اسمبلی کی کارروائی کےدوران حکومتی وزرا کے اہم انکشافات اور کراچی سانحے پر سخت ردعمل سامنے آیا، ارکان اسمبلی نے کراچی معاملے پر تحفظات کااظہارکیا۔

قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے انکشاف کیا کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے اب تک 850 افراد ملاقات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید ہی جیل کی تاریخ میں کسی قیدی نے اتنی زیادہ ملاقاتیں کی ہوں۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب پورے ملک سے سمٹ کر اڈیالہ جیل کے گیٹ تک محدود ہو چکی ہے، جو خود اس جماعت کی سیاسی سمت اور ترجیحات پر سوال اٹھاتی ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ایوان کو آگاہ کیا کہ لائیو اسٹاک اور پولٹری میں بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کا اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر گوشت کی طلب میں سب سے زیادہ مانگ پولٹری گوشت کی ہے، اسی تناظر میں حکومت پولٹری گوشت کی برآمدات کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے اور زرِ مبادلہ میں اضافہ ہو۔

کراچی سانحے پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
ارکان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ابھی سے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

سندھ طاس معاہدہ: اقوامِ متحدہ کی ڈیڈ لائن ختم، بھارت کی خاموشی برقرار

 قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت نے اپنے اقدامات کا جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوئے چونتیس دن مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ بھارت سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اقدامات پر سولہ دسمبر دو ہزار چھبیس تک جواب طلب کیا گیا تھا۔

ڈیڈ لائن گزرنے کے چونتیس دن بعد بھی نئی دہلی کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
بھارت تاحال اپنے اقدامات کی وضاحت پیش کرنے میں ناکام ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ اب بھی سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی جواب کی منتظر ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات برقرار ہیں، مگر نئی دہلی کی مسلسل خاموشی بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جس سے خطے میں آبی تنازع اور سفارتی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.