عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر مثبت پیش رفت
فوٹو : فائل
اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور چیف جسٹس نے ملاقاتوں کا راستہ بھی بتایا اور عمران خان کے وکیل کی استدعا پر بانی پی ٹی آئی سے مشورہ کی مہلت بھی دے دی. وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤکلین سے ہدایات لینے کیلئے مہلت کی استدعا کر دی، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں کی قابل سماعت ہونے سے متعلق دو متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں.
اپیلوں پر نوٹس جاری کیے بغیر سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی جا سکتیں۔ اگر درخواست گزار اپیلوں پر دلائل دینا چاہتے ہیں تو آج سے شروع کریں۔
اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ سائفر کیس میں اپیل پر دلائل دینے میں تین ماہ لگے تھے، اس وقت وہ مرکزی اپیل پر نہیں بلکہ سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی چاہتے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ہی نہیں ہیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ اپیلیں زیر التوا ہیں، پہلے انہیں سنا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اگر اپیل مقرر ہوگی تو سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی جائیں گی۔
بعد ازاں وکیل صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کیلئے مہلت طلب کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی جانب سے دیا گیا آپشن بہتر ہے، آپ ہفتے میں دو دن ملاقات کا وقت لے سکتے ہیں اور مؤکلین سے ہدایات حاصل کر سکتے ہیں۔
عدالت نے آئندہ ہفتے کی تاریخ دیتے ہوئے سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔
Comments are closed.