سپریم کورٹ کا بڑا اقدام،سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دن میں نمٹانے کا ہدف مقرر

سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ، چیف جسٹس کا عدالتی نظام میں ’ڈیجیٹل انقلاب‘ کا اعلان

فوٹو : فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ کا بڑا اقدام،سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دن میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 6 دنوں میں 354 کیسز کا فیصلہ کیا جائے گا، بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سزائے موت اور عمر قید جیسے سنگین نوعیت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے گی.

اس فیصلہ کی روشنی میں آئندہ 45 دنوں میں ان کیسز کے فیصلے کا واضح ہدف مقرر کر دیا ہے۔ عدالتی اصلاحات کے اس سلسلے میں صرف 9 سے 14 فروری کے دوران چھ یوم میں 354 مقدمات نمٹائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو عدالتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے 47ویں اجلاس میں سامنے آئی، جو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر میں عدالتی کارکردگی، زیر التوا مقدمات اور کیس مینجمنٹ کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔

فوجداری مقدمات میں نمایاں کمی آئی

اجلاس میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2024 سے اب تک سپریم کورٹ میں زیر التوا فوجداری مقدمات کی مجموعی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق فوجداری مقدمات کی تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی ہے، جو عدالتی نظام کی بہتری کی جانب اہم قدم ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کی قیادت میں عدالتی اصلاحات، مؤثر کیس مینجمنٹ اور مقدمات کی درجہ بندی کے نظام کو بہتر بنا کر سنگین جرائم کے کیسز کو تیز رفتاری سے نمٹایا جا رہا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ انصاف کی بروقت فراہمی آئینی تقاضا ہے اور اس مقصد کے لیے خصوصی بنچز تشکیل دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے مقدمات کی ترجیحی فہرست مرتب کرنے، روزانہ کی بنیاد پر سماعتوں کی مانیٹرنگ اور فیصلوں کی بروقت تیاری کے لیے جدید کیس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے تحت سزائے موت اور عمر قید کے کیسز کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرین اور ملزمان دونوں کو طویل انتظار سے نجات مل سکے۔

انصاف میں کم سے کم تاخیر ترجیح ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ انصاف میں تاخیر کو کم سے کم کرنا عدلیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیر التوا مقدمات میں کمی نہ صرف عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو بحال کرے گی بلکہ قانون کی حکمرانی کو بھی مضبوط بنائے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات عموماً پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان میں شواہد، گواہوں اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے میں مختصر مدت میں 354 کیسز کا نمٹایا جانا عدالتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ 45 روزہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا تو اس کے مثبت اثرات ماتحت عدالتوں اور ہائی کورٹس پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس سے عدالتی بوجھ میں کمی اور نظام انصاف کی کارکردگی میں مزید بہتری متوقع ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ عدالتی اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور آئندہ بھی زیر التوا مقدمات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئین و قانون کے مطابق شفاف، بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کے لیے عدلیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مقدمات کے تیز رفتار فیصلوں سے نہ صرف متاثرین کو جلد انصاف ملے گا بلکہ جیلوں میں قید زیر سماعت قیدیوں کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ عدالتی نظام میں یہ اصلاحات ملک میں انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مستحکم بنانے کی جانب اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔

Comments are closed.